حیات گم گشتہ--- بارہ
Poet: Tahir By: Dr Khizar Hayat Tahir, Rawalpindi کیا یا د تجھے بھی آ تے ہیں
ا ک لڑ کی تھی اک لڑ کا تھا
دیکھ کے سر شا ری ما لک کی بیل ا س کے ر ک جا تے ہیں
لڑ کی کے نز د یک آتے ہی بچہ ا س سے لیتا ہے
بیٹھ کے شیشم کی چھا ؤں میں دو نو ں ر و ٹی کھا تے ہیں
بچہ ہنستا کھیلتا ہے
چھا چھ ا ور رو ٹی ا س کے من و سلوی سے بڑ ھ کے ہے
کیو نکہ وُہ رو ٹی لڑ کی نے پکا ئی ہو تی ہے
لڑ کی با تو ں سے لڑ کا تا زہ دم ہو جا تا ہے
ا و ر بچے کی معصو م ہنسی سے ا س کا د ل کھل اُ ٹھتا ہے
لڑ کی جا نے کو اُ ٹھتی ہے
بچے کو اُ ٹھا کے لڑ کا ما ں کی گو د میں د یتا ہے
رُ خصت اُ ن د و نو ں کو لڑ کا پھر سے کر د یتا ہے
ا ور د و ر تک تکتا ر ہتا ہے
لڑ کی جب پگڈ نڈ ی پہ اُ س کی آ نکھ سے ا و جھل ہو تی ہے
لڑ کے کو جھٹکا لگتا ہے
وُ ہ خو ا بو ں سے جا گ اُ ٹھتا ہے
اشک ا س کے بر سا ت کی صو رت تا لا ب میں گر تے جا تے ہیں
کیا یا د تجھے بھی آ تے ہیں
ا ک لڑ کی تھی ا ک لڑ کا تھا
( جا ری )
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔






