حیات گم گشتہ--تیرہ
Poet: Tahir By: Dr Khizar Hayat Tahir, Rawalpindi کیا یا د تجھے بھی آ تے ہیں
ا ک لڑ کی تھی ا ک لڑ کا تھا
وُ ہ خو ا بو ں سے جا گ اُٹھتا ہے
ا شک اُ س کے بر سات کی صو ر ت تا لا ب میں
حسر ت کی ا ک ہو ک سی ا س کے د ل سے اُٹھتی ہے
کا ش کہ میں ا ن پڑ ھ ا و ر غر یب ہی ہو تا ا چھا تھا
کیا یا د تجھے بھی آ تے ہیں
ا ک لڑ کی جو کھو جا تی ہے
لڑ کا جو ملک سے با ہر ہو تا ہے
لڑ کی کے بغیر لڑ کے کو گاؤ ں سو نا سو نا لگتا ہے
یا د یں سمیٹے لڑ کی کی گا ؤ ں سے ر وا نہ ہو تا ہے
د و ر بہت د و ر کے ا ک شہر میں جا کر ر کتا ہے
د فتر میں ملا ز م ہو تا ہے
د فتر کے یخ بستہ کمر ے بس ر و ح کو جا ئے ر کھتے ہیں
ہر پل ہر لمحہ ا س کو یا دیں گھیر ی ر ہتی ہیں
کا غذ کے ہر صفحے پر ا ک شکل د کھائی د یتی ہے
ا و ر محصو ر ا سے کرلیتی ہے
وُ ہ بیکل بیکل ر ہتا ہے
چھٹی کر کے د فتر سے سڑ کو ں پھر تا رہتا ہے
کیا یا د تجھے بھی آ تے ہیں
ا ک لڑ کی تھی ا ک لڑ کا تھا
(جا ر ی) ُ
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔







