حیات گم گشتہ--تیرہ
Poet: Tahir By: Dr Khizar Hayat Tahir, Rawalpindi کیا یا د تجھے بھی آ تے ہیں
ا ک لڑ کی تھی ا ک لڑ کا تھا
وُ ہ خو ا بو ں سے جا گ اُٹھتا ہے
ا شک اُ س کے بر سات کی صو ر ت تا لا ب میں
حسر ت کی ا ک ہو ک سی ا س کے د ل سے اُٹھتی ہے
کا ش کہ میں ا ن پڑ ھ ا و ر غر یب ہی ہو تا ا چھا تھا
کیا یا د تجھے بھی آ تے ہیں
ا ک لڑ کی جو کھو جا تی ہے
لڑ کا جو ملک سے با ہر ہو تا ہے
لڑ کی کے بغیر لڑ کے کو گاؤ ں سو نا سو نا لگتا ہے
یا د یں سمیٹے لڑ کی کی گا ؤ ں سے ر وا نہ ہو تا ہے
د و ر بہت د و ر کے ا ک شہر میں جا کر ر کتا ہے
د فتر میں ملا ز م ہو تا ہے
د فتر کے یخ بستہ کمر ے بس ر و ح کو جا ئے ر کھتے ہیں
ہر پل ہر لمحہ ا س کو یا دیں گھیر ی ر ہتی ہیں
کا غذ کے ہر صفحے پر ا ک شکل د کھائی د یتی ہے
ا و ر محصو ر ا سے کرلیتی ہے
وُ ہ بیکل بیکل ر ہتا ہے
چھٹی کر کے د فتر سے سڑ کو ں پھر تا رہتا ہے
کیا یا د تجھے بھی آ تے ہیں
ا ک لڑ کی تھی ا ک لڑ کا تھا
(جا ر ی) ُ
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے







