حیات گم گشتہ---پندرہ

Poet: Tahir By: Dr Khizar Hayat Tahir, Rawalpindi

 کیا یا د تجھے بھی آ تے ہیں
ا ک لڑ کی تھی ا ک لڑ کا تھا
و ہ چہر ہ ہا ں و ہ چہر ہ
ا س لڑ کی کا چہر ہ تھا
جسے ا ب تک بھو ل نہ پا یا تھا
لیکن ا ب ایک تلخ حقیقت چہر ے سے و ا بستہ تھی
فیصلے بھی تقد یر کے ا یسے ینمٹ ا ن ٹل ہو تے ہیں
و ہ لڑ کی جو پا ر ک میں آ یئ تھی
بچو ں کی ا نگلی پکڑ ے شو ہر کی ہمر ا ہی تھی
بچو ں کے نا ز ا ٹھا تی تھی
جھو لا ا نہیں جھلا تی تھی
نچو ں کی پیا ری با تو ں سے د و نو ں کھل کھل جا تے تھے
ا ب یہ یہ خو ا ب نہیں ایک حقیقت تھی
لڑ کی بھی ا پنی ز یست سے جیسے آ سو د ہ سی لگتی تھی
لڑ کا بھی ا چا نک صد مے سے ا اب
کا فی حد تک سنبھلا تھا
آ خر و ہ لمبی آ ہ بھر کر
جھٹکے سے پیچھے مڑ تا ہے
ا ور کمر ے میں لو ٹ کے آ تا ہے

( جا ر ی )

Rate it:
Views: 442
05 Jul, 2011
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL