خاموش فضا تھی کہیں سایہ بھی نہیں تھا
Poet: Kusar Samreen By: Tariq Baloch, hub chowkiخاموش فضا تھی کہیں سایہ بھی نہیں تھا
اس شہر میں ہم سا کوئی تنہا بھی نہیں تھا
اونچی سی حویلی میں اترتا رہا شب بھر
کٹھیا میں میری چاند نے جھانکا بھی نہیں تھا
کس جرم میں چھینی گئیں مجھ سے میری آنکھیں
اِن میں تو کوئی خواب سجایا بھی نہیں تھا
منصف میرا مجرم کا طرف دار بنے گا
اس طرح تو میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا
ہم جس کے حوالے سے ہوئے شہر میں بدنام
اُس شخص کو ہم نے کبھی دیکھا بھی نہیں تھا
ثمرین! وہی شخص ہمیں چھوڑ چلا ہے
جس کا کہ بچھڑنے کا ارادہ بھی نہیں تھا
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






