سیلاب زدگان کی حالت زار

Poet: اشراق جمال اشہر چشتی By: اشراق جمال اشہر چشتی, Dubai-U.A.E

آنسؤ ہیں مگر مچھ کے یہ رونا ہے دکھا و ا
ہر غم کا فقط ہوتا ہے دعوؤں سے مدا وا

امداد کا کہہ کر یہا ں ذلت ہو ئی تقسیم
زخموں پہ نمک چھڑ کا ہے مرچوں کے علا وہ

کل تک جو مسیحاء کے نقا بوں میں کھڑ ے تھے
غا ئب ہیں وہ منظر سے یہا ں مثل چھلا وہ

حسرت زدہ چہروں کے لبوں پر یہ دعا ہے
آجا ئے انہیں جلد اجل کا ہی بلا وہ

برباد ہو ئے خانہ خرا بوں کے دلو ں میں
پکتا ہے بغا وت کا وہ نفرت زدہ لا وا

بپھرے ہوئے دریا تو جنوں خیز تھے لیکن
بند توڑ کے طاقت کو دیا کس نے بڑھا وا

مٹی کے وہ غربت کی علامت جو نگر تھے
بیماری و فاقوں نے کیا ان پہ چڑھا وا

Rate it:
Views: 757
19 Nov, 2010
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL