خدا نے پھر نہ پوچھا

Poet: T By: T-Malik, Lahore

خدا نے پھر نہ پوچھا
جو کبھی کبھی کا سلسلہ
میرے لئے سجدہ نشین رہا
کیا بادلوں سے روٹھہ گیا
کیا فاصلوں سے ڈر گیا
کیا پانیوں میں بہہ گیا

تو کیا مجھ سے جدا ہو گیا
یوں ٹوٹا سورج ادھیڑ کر
یوں ٹوٹی دعائیں بکھیر کر

خدا نے پھر نہ پوچھا
منزلوں کو ساکن کر
پلکوں کی گود میں
جو رات بھر دھرا رہا
وہ نور فلک بوس ہوا
یا دھڑکنوں پہ ہرا رہا

خدا نے پھر نہ پوچھا
وہ جو رات بھر رقصاں رہے
خواب تیری پلکوں پہ
کیا ستاروں میں ڈھل گئے
یا چوکھٹ پہ ہی مر گئے

خدا نے پھر نہ پوچھا
شب گزاری کی آرزو لئے
وہ جو آنگن میں ٹھہرا تھا
چاندنی میں ڈھل گیا
یا گہنا کہ جل گیا

خدا نے پھر نہ پوچھا
تجھے واسطوں میں گھیر گھیر
جو ہوائیں صدقے جاتی تھیں
کیا بادلوں میں ڈھل گئی
یا آندھیوں میں گھل گئی

دل نے پھر چھیڑی کیا
تیری کمی کی داستاں
اب کس کروٹ پہ روتے ہو
خدا نے پھر نہ پوچھا

Rate it:
Views: 735
15 Mar, 2009
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL