خموش صُبحیں، اُداس شامیں، تِرا پتہ مُجھ سے پُوچھتی ھیں
Poet: رشید حسرتؔ By: رشید حسرتؔ, Quetta خموش صُبحیں، اُداس شامیں، تِرا پتہ مُجھ سے پُوچھتی ھیں
بتاؤں کیا اب کہ یِہ فضائیں پلٹ کے کیا مُجھ سے پُوچھتی ھیں
اُداس چِڑییں جو دِن کو دانے کی کھوج میں تِھیں، ھیں لوٹ آئی
کہاں ھے شاخ شجر کہ جِس پر تھا گھونسلہ مُجھ سے پُوچھتی ھیں
تُمہیں تو صحرا نوردیوں میں کمال ھے، کُچھ ھمیں بتاؤ
کمال کی ھیں جو ہستیاں آبلہ پا، مُجھ سے پُوچھتی ہیں
فقِیہِہ شہرِ بلا نے مُجھ کو تو مُدّتوں سے ھے قید رکھا
عدالتیں ھیں کہ اب کہیں جا مِری خطا مُجھ سے پُوچھتی ھیں
کوئی تعلّق، کوئی بھی ناتا نہیں رھا ھے تو نہ سہی اب
یہ پاک بازوں کی ٹولیاں کُچھ بھی کیوں بھلا مُجھ سے پُوچھتی ھیں
فصِیلِ شہرِ اماں کی یارو خُدا سے ھم خیر ما نگتے ھیں
بلائیں کیا کیا مِرے نگر کا ھی راستہ مُجھ سے پُوچھتی ھیں
وفا کے شِیشے کی کِرچِیوں کے سمیٹنے کا کوئی سلِیقہ؟
بتاؤ حسرتؔ، بڑی ادا سے، پری ادا مُجھ سے پُوچھتی ھیں۔
سنبھال رکھنا میری وفا
ملو گے کب یہ تو بتا دوں
اے بتانے والے دو گا دعا
میری ہے تم سے اک التجا
پکار میری تم نے نہ سنی
دیتا رہا ہو بہت بار صدا
میری تم بن گئیں ہو ضد
لیکن لگتا تم کرو گی جفا
تم مل جاؤ اگر اے جاناں
کیونکہ میری اسی میں بقاء
اتنا یقیں ہو گیا ہے مجھے زیب
اس محبت کی تم دو گی سزا
سنتے بھی ہو کے سماعت سے محروم ہو
پہلے تو چلے آتے تھے کسی بہانے سے
اب تو منہ موڑ کے چلے جاتے ہو
کچھ یو ہی سہی صیح میرے مقدر کا قصور ہے
اب جو آتے بھی ہو اور بغیر ملے چلے جاتے ہو
تم سے مل کر اچھا لگتا تھا زیب
کھبی کھبی بے وفا مقدر کے بہانے یاد آجاتے ہو
عمر میں کچھ روانی تو آنے دیتا۔
مُجھے بات کرنے کا ڈھنگ نہ آیا،
زباں پر کچھ روانی تو آنے دیتا۔
وہ مستقبل کے خوب لئیے چلا گیا،
آخر کوئی بات پرانی تو آنے دیتا۔
اگر سچا ہوتا تو صرف باتیں نہ کرتا،
کبھی اپنی کوئی مہربانی تو آنے دیتا۔
یک دم مسکرا کے چلا گیا وہ شخص،
چہرے پہ کچھ حیرانی تو آنے دیتا۔
اسی انتظار میں مجھ سے دیر ہوئی،
" شمس" ،
محبت کی کوئی نشانی تو آنے دیتا۔






