یہ کیسے لوگ ہیں جو موت پر اِصرار کرتے ہیں
Poet: رشید حسرتؔ By: رشید حسرتؔ, Quettaیہ کیسے لوگ ہیں جو موت پر اِصرار کرتے ہیں
جہاں لِکھا ھے "آہِستہ" وہِیں رفتار کرتے ہیں۔
خلل اپنے دماغوں کا، کریں تعبِیر جِدّت سے
یہ بِیوی کے لیئے ماں باپ کو آزار کرتے ہیں۔
کہاں خاطِر میں لاتے ہیں یہ تاجِر نِرخ نامے کو
تو ہم اِن بے حِسوں سے کاہے کی تکرار کرتے ہیں۔
جو تُم نے راز اُلفت کا کِیا افشا سرِ محفل
تو ھم بھی اعتراف اس کا سرِ بازار کرتے ہیں۔
بھلا ایسوں کی باتوں میں کہِیں تاثِیر ھوتی ہے؟
عمل کرتے نہیں، تقرِیر دُھوئیں دار کرتے ہیں۔
ہمیں تو بات کرنے کا سلِیقہ تک نہِیں آتا
کہاں ہم کو کمال ایسا جو خُوش گُفتار کرتے ہیں۔
چلو تسلِیم کرتے ہیں کہ اب تک یاد ہیں اُن کو
روّیے سے مگر کُچھ اور وہ اِظہار کرتے ہیں۔
یہ آگے سے جو صاحب آ رہے ہیں ان سے بچ نِکلو
یہ ایسا جھاڑتے ہیں فلسلفہ، بیزار کرتے ہیں۔
کبھی دشمن ھُؤا کرتے تھے چُھپ کر وار کرنے کو
مگر حسرتؔ ابھی یہ کام رشتے دار کرتے ہیں۔
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے






