یہ کیسے لوگ ہیں جو موت پر اِصرار کرتے ہیں
Poet: رشید حسرتؔ By: رشید حسرتؔ, Quettaیہ کیسے لوگ ہیں جو موت پر اِصرار کرتے ہیں
جہاں لِکھا ھے "آہِستہ" وہِیں رفتار کرتے ہیں۔
خلل اپنے دماغوں کا، کریں تعبِیر جِدّت سے
یہ بِیوی کے لیئے ماں باپ کو آزار کرتے ہیں۔
کہاں خاطِر میں لاتے ہیں یہ تاجِر نِرخ نامے کو
تو ہم اِن بے حِسوں سے کاہے کی تکرار کرتے ہیں۔
جو تُم نے راز اُلفت کا کِیا افشا سرِ محفل
تو ھم بھی اعتراف اس کا سرِ بازار کرتے ہیں۔
بھلا ایسوں کی باتوں میں کہِیں تاثِیر ھوتی ہے؟
عمل کرتے نہیں، تقرِیر دُھوئیں دار کرتے ہیں۔
ہمیں تو بات کرنے کا سلِیقہ تک نہِیں آتا
کہاں ہم کو کمال ایسا جو خُوش گُفتار کرتے ہیں۔
چلو تسلِیم کرتے ہیں کہ اب تک یاد ہیں اُن کو
روّیے سے مگر کُچھ اور وہ اِظہار کرتے ہیں۔
یہ آگے سے جو صاحب آ رہے ہیں ان سے بچ نِکلو
یہ ایسا جھاڑتے ہیں فلسلفہ، بیزار کرتے ہیں۔
کبھی دشمن ھُؤا کرتے تھے چُھپ کر وار کرنے کو
مگر حسرتؔ ابھی یہ کام رشتے دار کرتے ہیں۔
سنبھال رکھنا میری وفا
ملو گے کب یہ تو بتا دوں
اے بتانے والے دو گا دعا
میری ہے تم سے اک التجا
پکار میری تم نے نہ سنی
دیتا رہا ہو بہت بار صدا
میری تم بن گئیں ہو ضد
لیکن لگتا تم کرو گی جفا
تم مل جاؤ اگر اے جاناں
کیونکہ میری اسی میں بقاء
اتنا یقیں ہو گیا ہے مجھے زیب
اس محبت کی تم دو گی سزا
سنتے بھی ہو کے سماعت سے محروم ہو
پہلے تو چلے آتے تھے کسی بہانے سے
اب تو منہ موڑ کے چلے جاتے ہو
کچھ یو ہی سہی صیح میرے مقدر کا قصور ہے
اب جو آتے بھی ہو اور بغیر ملے چلے جاتے ہو
تم سے مل کر اچھا لگتا تھا زیب
کھبی کھبی بے وفا مقدر کے بہانے یاد آجاتے ہو
عمر میں کچھ روانی تو آنے دیتا۔
مُجھے بات کرنے کا ڈھنگ نہ آیا،
زباں پر کچھ روانی تو آنے دیتا۔
وہ مستقبل کے خوب لئیے چلا گیا،
آخر کوئی بات پرانی تو آنے دیتا۔
اگر سچا ہوتا تو صرف باتیں نہ کرتا،
کبھی اپنی کوئی مہربانی تو آنے دیتا۔
یک دم مسکرا کے چلا گیا وہ شخص،
چہرے پہ کچھ حیرانی تو آنے دیتا۔
اسی انتظار میں مجھ سے دیر ہوئی،
" شمس" ،
محبت کی کوئی نشانی تو آنے دیتا۔






