یہ کیسے لوگ ہیں جو موت پر اِصرار کرتے ہیں

Poet: رشید حسرتؔ By: رشید حسرتؔ, Quetta

یہ کیسے لوگ ہیں جو موت پر اِصرار کرتے ہیں
جہاں لِکھا ھے "آہِستہ" وہِیں رفتار کرتے ہیں۔

خلل اپنے دماغوں کا، کریں تعبِیر جِدّت سے
یہ بِیوی کے لیئے ماں باپ کو آزار کرتے ہیں۔

کہاں خاطِر میں لاتے ہیں یہ تاجِر نِرخ نامے کو
تو ہم اِن بے حِسوں سے کاہے کی تکرار کرتے ہیں۔

جو تُم نے راز اُلفت کا کِیا افشا سرِ محفل
تو ھم بھی اعتراف اس کا سرِ بازار کرتے ہیں۔

بھلا ایسوں کی باتوں میں کہِیں تاثِیر ھوتی ہے؟
عمل کرتے نہیں، تقرِیر دُھوئیں دار کرتے ہیں۔

ہمیں تو بات کرنے کا سلِیقہ تک نہِیں آتا
کہاں ہم کو کمال ایسا جو خُوش گُفتار کرتے ہیں۔

چلو تسلِیم کرتے ہیں کہ اب تک یاد ہیں اُن کو
روّیے سے مگر کُچھ اور وہ اِظہار کرتے ہیں۔

یہ آگے سے جو صاحب آ رہے ہیں ان سے بچ نِکلو
یہ ایسا جھاڑتے ہیں فلسلفہ، بیزار کرتے ہیں۔

کبھی دشمن ھُؤا کرتے تھے چُھپ کر وار کرنے کو
مگر حسرتؔ ابھی یہ کام رشتے دار کرتے ہیں۔

Rate it:
Views: 782
15 Jul, 2021
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL