خواب
Poet: Shabbir Rana By: Dr.Ghulam Shabbir Rana, Jhang City(Punjab--Pakistan)زیست کے سرابوں میں
دل کے خوش رکھنے کو
دیکھتے ہیں خواب ہم سب
المیہ یہ ہوتا ہے
خواب ٹوٹ جاتے ہیں
بے بسی کے عالم میں
ہار جائے جب قسمت
ساتھ چھوٹ جاتے ہیں
تقدیر کے کرشمے ہیں
دوست روٹھ جاتے ہیں
بے ضمیر لو گوں کے جبر کے تھپیڑوں سے
دل بھی ٹوٹ جاتے ہیں
ابلق ایام کے سموں کی گرد پڑنے سے
سب کچھ دھندلا ہو جاتا ہے
خواب یوں بکھرتے ہیں، نصیب روٹھ جاتے ہیں
خواب ٹوٹ جائیں تو
سانس کا تعلق بھی ساتھ چھوڑ نا چاہے
ہر وفا کا داعی پھر منہ موڑ لیتا ہے
زندگی کی شمع تو
یوں ہی جلتی رہتی ہے
موت کے بگولوں تک
بے بسی کے عالم میں ٹمٹماتی رہتی ہے
حسرتِ تمنا بھی تلملاتی رہتی ہے
بے کسی کے عالم ہاتھ ملتی رہتی ہے
رفتگاں کی یادیں پھر، سوہانِ روح بنتی ہیں
خوں کے آنسو میں تر
نوکِ مژگاں حوصلے دلاتی ہے
دل کی دھڑکنوں سے پھر اک آواز آتی ہے
خواب سے جگاتی ہے
اور یہ بتاتی ہے
خواب دیکھنا چھوڑو
پیماں شکن سفہا سے
اپنا ناتہ خود توڑو
خار زار راہوں سے
اپنا رشتہ پھر جوڑو
زندگی حقیقت ہے اس کی معنویت سمجھو
خواب دیکھنا چھوڑو، ان کی اصلیت سمجھو
خواب ٹوٹ جاتے ہیں، ان کا روپ پہچانو
اے حریص نادانو
سبز باغ اور حسیں خواب دکھلا کر
راحت اور سکوں سب کا
لوگ لوٹ لیتے ہیں
حسرتوں کے مدفن کو
دیکھتے ہیں جب ہم لوگ
انکھیں پھوٹ جاتی ہیں
آنسوؤں کی برساتیں
دل کی ویراں وادی میں
بے ثمر رتوں میں بھی
زیست کے تلاطم میں
یہ سماں دکھاتی ہیں
پھر عذاب آتے ہیں
خواب ٹوٹ جاتے ہیں
کسی کی بزمِ ناز سے اٹھا دیئے گئے تو کیا
خلوص کا مزہ گیا، دہی بنا ہے پیار کا
کسی نے کھو دیا کسی کو لا دیئے گئے تو کیا
ہمیں ذرا بھی خوف سا رہا نہیں ہے خار کا
ہٹا دیئے گئے تو کیا، بچھا دیئے گئے تو کیا
ستم تو دیکھیے ہمیں مہک پہ دست رس نہیں
اسیرِ زلفِ یار بھی بنا دیئے گئے تو کیا
ملی حیات کو نجات کل کی تیرگی سے تو
وفا کی راہ میں ہزار ہا دیّے گئے تو کیا
ہمیں کمالِ ضبط بھی عطا کِیا گیا تو ہے
ستم، ستم کے بعد ہم پہ ڈھا دیئے گئے تو کیا
ملی اگر خوشی کبھی لگا کہ بھول سے ملی
تعاقبوں میں اس پہ غم لگا دیئے گئے تو کیا
کبھی تو ایک دن الگ رہے تو زیست بار تھی
نہ تھے جو بیچ فاصلے بڑھا دیئے گئے تو کیا
رشیدؔ رفعتوں میں ہے کوئی جو دیکھتا ہے سب
گئے دنوں کے درد پھر جگا دیئے گئے تو کیا
مگر میرے پاؤں میں بیڑیاں خاندانی حرمت کی ہیں۔
دل کو قفس سے آزاد کرتے ہوئے، میرے ستمگر کو یہ خیال نہ رہا،
کہ شاید دل میں محبت کی رمق اب بھی باقی ہے۔
میرے بیزارِ محبت کو گمان ہے میرے دل کے کارآمد ہونے پر،
وار اسی لیے وہ کرتا ہے میرے آرامیدہ ہونے پر۔
ہنر ہے میرا کہ میں نے اس کو اب تک سنوار کر رکھا ہے،
ورنہ یہ زخمی و آزردہ دل کب کا مر چکا ہے۔
دل کو اب تک وہ محبت کا فسانہ یاد ہے
وہ گلی وہ شام وہ چہرے وہ ہنسی کے قافلے
آج بھی آنکھوں کو سب کچھ دل کا افسانہ یاد ہے
وقت کی آندھی نے سب نقش مٹا ڈالے مگر
دل کی دیواروں پہ تیرا وہ ٹھکانہ یاد ہے
ہم نے سوچا تھا کہ بھولیں گے تجھے اک دن کبھی
پر ہمیں ہر موڑ پر تیرا بہانہ یاد ہے
کچھ تعلق وقت کے ہاتھوں بچھڑ جاتے ہیں مگر،
دل کو ہر رشتہ، ہر اک گزرا زمانہ یاد ہے
اب بھی تنہائی میں جب چاند نکل آتا ہے
تیری باتوں کا وہ پیارا سا خزانہ یاد ہے
زندگی آگے تو بڑھتی ہی رہی مسعود مگر
دل کو بچپن دل کو وہ گزرا زمانہ یاد ہے
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم






