خواہش

Poet: Noor By: Noor, oman muscat

موت کی آغوش میں سونے سے پہلے
دنیا پر اپنی چھاپ چھوڑ جانا چاہتی ہوں

زندگی کی کتاب میں لکھنے کے لیے
اک دلچسپ سا باب چھوڑ جانا چاہتی ہوں

انسانوں کے ذہن میں جو پیدا کر دے ہلچل
کچھ ایسے ہی سوال چھوڑ جانا چاہتی ہوں

تپش محسوس کرے وہ میری لگن کی
کچھ ایسا ہی خیال چھوڑ جانا چاہتی ہوں

جن سے وہ کر سکیں اپنے خوابوں کو شرمیندہ تعبیر
ایسا ہی اک خواب چھوڑ جانا چاہتی ہوں

جس سے پوری ہو جائے میرے دل کی چاہت
اک ایسا ہی خواب چھوڑ جانا چاہتی ہوں

پیدا کر دے جو لوگوں میں چاہت کا جذبہ
ایسی ہی اک مثال چھوڑ جانا چاہتی ہوں

مہکتا رہے جب تک رہے دنیا سلامت
اک خوبصورت سا گلاب چھوڑ جانا چاہتی ہوں

Rate it:
Views: 628
24 Mar, 2010
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL