خود ہی تلوار ہو گئے
Poet: By: UA, Lahoreجب سے تجھے دیکھا تیرے سرکار ہوگئے
اپنا دل تجھے دے دیا تیرے حقدار ہوگئے
تیرا سراپا دیکھا غزل گوئی سیکھ لی
ہم آدمی تھے عام سے فنکار ہو گئے
ہم کو بھی زندگی سے بہت لگاؤ تھا
کچھ ایسے ملے زخم کہ ییزار ہو گئے
صحرا کی خاک چھانتے رہے تمام عمر
گردش میں رہے راہ کی غبار ہو گئے
دانستہ ہم سے ایسی نادانی ہو گئی
کہ اپنے ہی شہر سے فرار ہو گئے
پے در پے وار ہم پر یوں کار گر ہوئے
خود ڈھال بن گئے خود ہی تلوار ہو گئے
More Sad Poetry
رنج و الم زیست لے آئی ہے اس موڑ پر ہمیں ۔۔۔۔۔۔!
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
Tanveer Ahmed







