خُود کو آنسُو کر لِیا ہم نے خُوشی کرتے ہُوئے

Poet: رشید حسرت By: رشید حسرت, کوئٹہ

خُود کو آنسُو کر لِیا ہم نے خُوشی کرتے ہُوئے
موت کی آغوش میں ہیں زِندگی کرتے ہُوئے

کیا کہیں کیسی شِکست و ریخت کا تھا سامنا
اپنے ارمانوں سے دامن کو تہی کرتے ہُوئے

کُچھ پتہ ہی نا چلا من پر کہاں شب خُوں پڑا
دِل لگی میں، دِل لگی سے، دِل لگی کرتے ہُوئے

اب کہاں کے مرحلے یہ بِیچ میں آنے لگے
کوئی شرطیں تو نہیں تِھیں دوستی کرتے ہُوئے

جب یہ دیکھا ظاہری چہرے کی وُقعت ہے یہاں
من اندھیرا کر لیا، تن روشنی کرتے ہُوئے

دِل کا مندر صاف ہم کرتے نہِیں اصنام سے
بُت پرستی بھی ہے جاری، بندگی کرتے ہُوئے

ایک مُدّت ہوگئی دِل ہم نے کھویا تھا کہِیں
سُنتے ہیں پایا گیا آوارگی کرتے ہُوئے

فاصلے جو بیچ میں تھے پاس کتنے تھے کبھی
دُور جا بیٹھے ہیں ربطِ باہمی کرتے ہُوئے

رندؔ ہُوں، وعدہ شِکن ہوں، کیا بھروسہ ہے رشِیدؔ
آج توبہ، کل جو تم پاؤ وہی کرتے ہُوئے؟

Rate it:
Views: 843
08 Mar, 2022
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL