دادا جان
Poet: مقدس مجید By: Muqadas Majeed, Kasurجو لمحہ پہلے تھا ساتھ میرے
اسے دور جاتا دیکھتی ہوں
اک ٹھنڈے پڑے جسم کو
میں ملبوسِ کفن دیکھتی ہوں
وہ چہرہ جو دیکھ کر مجھ کو
کبھی جگمگایا کرتا تھا
میری چھوٹی چھوٹی خوشیوں پر
پھول سا کھل جایا کرتا تھا
اس چہرے کو آج میں
نیلا پڑتے دیکھتی ہوں
وہ آنکھیں جو مجھ سے ملنے پر
کس طرح چمکتی تھیں
میرے دیدار کی خاطر
کس قدر ترستی تھیں
ان آنکھوں کو آج میں
سوئے ہوئے دیکھتی ہوں
ہاؤ ہُو کا عالم ہے
اک پُر زور تماشا بھی
ایسے میں نیلے ہونٹوں کو
سرگوشی کرتا دیکھتی ہوں
وہی مدھم، شفیق آواز میرے
کانوں سے ٹکراتی ہے
اور دلِ بےقرار کو
اک سبق پڑھاتی ہے
کہ میری جاں، میری دختر!
کیوں ایسے اشک بہاتی ہے؟
مجھ مرحوم کے سرہانے
کیوں اتنا روئے جاتی ہے؟
جہاں تو آج بیٹھی ہے
کل یہاں میں بیٹھا کرتا تھا
ایک ایک کر کے سب وڈیروں کو
یونہی جاتے دیکھا کرتا تھا
میری جاں، میری دختر!
یہی زندگی کا اصول ہے
جو ہے ایک بار یہاں آ چکا
اسے کبھی تو جانا ضرور ہے
بس بےخودی کے دھاگے سے کبھی
اپنی اوڑھنی نہ بننا تم
اور چھوٹے سے اس سفر میں
ذرا دھیان دھیان سے چلنا تم
میری یہ نظم میرے دادا جان کے نام جنھوں نے ہماری زندگیاں بنانے کیلئے اپنی ساری زندگی وقف کر دی اور اپنی محبت اور خلوص دے کر مجھے بہت خوش قسمت ہونے کا احساس دلایا. دادا جان نے 2019-08-29 کو 105 سال کی عمر میں وفات پائی. اللہ تعالیٰ انکی مغفرت فرمائے. آمین
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔






