داغ دل۔۔۔۔

Poet: Umar Farooq Umar By: Umar Farooq, Islamabad

وہ داغ دل جو چھپا لئے ہیں تمہیں دکھا کے میں کیا کروں گا
وہ غم جو دل میں بسا لئے ہیں تمہیں سنا کے میں کیا کروں گا

اپنی میت کو اپنے کاندھوں پہ لے کےتنہا رواں دواں ہوں
میں خود ہی کافی کفن دفن کو جہاں بلا کے میں کیا کروں گا

وہ ہم سفر جس نے راہ میں ہی الگ الگ کر لئے تھے رستے
وہ پھر سے مجھ کو اگر پکارے پلٹ کے آ کے میں کیا کروں گا

نہ گل ہی کھلتے ہیں اب چمن میں نہ کوئی نکہت نسیم میں ہے
ہے سونا سونا چمن ہی سارا چمن میں جا کے میں کیا کروں گا

ایک سوکھے شجر کے سائے میں خشک تنکوں کی میری کٹیا
آندھیاں بھی عروج پر ہیں ، دیا جلا کے میں کیا کروں گا

تیرے ہی اپنے گواہ ہیں سارے تیرے ہی قاضی تیرے شہر میں
عمر یہ ایساعدل ہے تیرا عدل بھی پا کے میں کیا کروں گا

Rate it:
Views: 897
04 Jun, 2016
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL