دریچے
Poet: jamil Hashmi By: Jamil Hashmi, Rawalpindiخیالوں کے دریچوں میں اسے ڈھونڈ رہا ہوں
بیتے ہوئے دنوں کی جفا ڈھونڈ رہا ہوں
یادوں کی بارات ھے اور میں ہوں تنہا
بھولی ہوی باتوں کا مزا ڈھونڈ رہا ہوں
وہ لمحہ جو دامن میں خوشبو بکھر گیا
گلشن میں اسی پھول کا پتہ ڈھونڈ رہا ہوں
کہتے ہیں کہ فصل بہاراں ہے چمن میں
خزاں میں جیسے بلبل کی سدا ڈھونڈ رہا ہوں
ماضی کی یادیں پھر سوچوں میں ڈھلی ہیں
ناکام الفت کا صلہ ڈھونڈ رہا ہوں
More Sad Poetry
رنج و الم زیست لے آئی ہے اس موڑ پر ہمیں ۔۔۔۔۔۔!
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
Tanveer Ahmed






