دسمبر جاتے جاتے بھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Poet: muhammad nawaz By: muhammad nawaz, sangla hillامنگوں سے بھرا موسم ذہن میں گھوم جاتا ہے
دسمبر جاتے جاتے پھر نئی وحشت جگاتا ہے
جسے مٹھی میں بھر کے ہم مقدر سے الجھتے تھے
وہی تارا میری آنکھوں میں اکثر ٹمٹماتا ہے
جو تیرے وصل میں گزرے ۔ انہی لمحات کا جادو
غم دوراں کے جنجھٹ سے مجھے اب بھی بچاتا ہے
میری بیتاب نظروں کی تپش کی تاب نہ لا کر
اتر کر چاند زینوں سے میرے آنگن میں آتا ہے
کبھی پتہ کوئی ٹوٹے جو شاخ نخل سے کٹ کر
تو سینے میں دھڑکتا دل سہم کر ٹھہر جاتا ہے
ترنم سے کہیں بڑھ کر تیرے لہجے کا دھیما پن
قسم تیری ۔ تکلم کو ابھی تک گدگداتا ہے
وہ جسکی ٹہنیوں پہ رات دن طائر چہکتے تھے
وہ برگد کا شجر اب بھی گئے پل کو بلاتا ہے
ٹھٹھرتی شام میں موتی کی صورت دمکتا چہرہ
میری سانسوں کے ماتھے پر ابھی تک جگمگاتا ہے
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






