دسمبر جاتے جاتے بھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Poet: muhammad nawaz By: muhammad nawaz, sangla hill

امنگوں سے بھرا موسم ذہن میں گھوم جاتا ہے
دسمبر جاتے جاتے پھر نئی وحشت جگاتا ہے

جسے مٹھی میں بھر کے ہم مقدر سے الجھتے تھے
وہی تارا میری آنکھوں میں اکثر ٹمٹماتا ہے

جو تیرے وصل میں گزرے ۔ انہی لمحات کا جادو
غم دوراں کے جنجھٹ سے مجھے اب بھی بچاتا ہے

میری بیتاب نظروں کی تپش کی تاب نہ لا کر
اتر کر چاند زینوں سے میرے آنگن میں آتا ہے

کبھی پتہ کوئی ٹوٹے جو شاخ نخل سے کٹ کر
تو سینے میں دھڑکتا دل سہم کر ٹھہر جاتا ہے

ترنم سے کہیں بڑھ کر تیرے لہجے کا دھیما پن
قسم تیری ۔ تکلم کو ابھی تک گدگداتا ہے

وہ جسکی ٹہنیوں پہ رات دن طائر چہکتے تھے
وہ برگد کا شجر اب بھی گئے پل کو بلاتا ہے

ٹھٹھرتی شام میں موتی کی صورت دمکتا چہرہ
میری سانسوں کے ماتھے پر ابھی تک جگمگاتا ہے

Rate it:
Views: 906
27 Dec, 2011
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL