دعا
Poet: kashif imran qureshi By: kashif imran, piplan / mianwaliاللہ تعالیٰ نے میرے پیارے اور محترم خالہ زاد بھائی محمد رضوان ایس ایس ٹی کمپیوٹر سائنس گورنمنٹ ہائی سکول شمشیر آباد پپلاں ضلع میا نوالی کو بیٹی جیسی رحمت سے نوازا ہے جس کا نام اریبہ عشال رکھا گیا ہے۔ میں نے اس کے لئے اشعار کی صورت میں دعا لکھی ہے اور ہماری ویب پر دے دی تا کہ بہت سے لوگ اس کو پڑھیں اور اس طرح عشال کو زیادہ سے زیادہ دعائیں ملیں گیں۔ شکریہ ہماری ویب
کتنا پیارا نام تمہارا ہے اریبہ عشال
زندگی خدا تجھ کو دے جو ہو بے مثال
ماں باپ کی آنکھوں کا بن کے رہو تارا سدا
خوشیوں بھرے ہوں تمہارے دن،ماہ اور سال
سب کی ہے یہ دل سے دعا تمہارے لئے فقط
تیرے ہی دم سے رہیں خوشیاں سب کی بحال
تیرے ہی دم سے رہے آنگن میں ہر پل خوشی کی بہار
اور ہر کوئی رکھے جاں سے بھی بڑھ کر تیرا خیال
دنیا کی ہر اک بیٹی کو آئے تیری زندگی پہ رشک
ایسا تجھے عطا علم ہو اور ایسا نصیب ہو کمال
تیرے ہی دم قدم سے شادو آباد رہے آنگن ہمیشہ
ایسا تجھے عطا ہو سیرت و صورت میں حسن و جمال
کاشف کی ہے یہ دعا دل سے ہر پل تیرے لئے فقط
خدا دے تجھے اس قدر خوشیاں کہ تو نہ سکے سنبھال
انسان نے کی ہے فقط عادت کی پرستش
سچ بولنے والوں کو ملا دار کا تحفہ
جھوٹوں نے مگر پائی ہے عزّت کی پرستش
ایوانِ سیاست میں یہ منظر ہے عجب سا
کردار نہیں، ہوتی ہے صورت کی پرستش
محروم ہی رہتے ہیں ہمیشہ اہلِ دانش
جاہل کو ملی شہر میں شہرت کی پرستش
حق بات جو کہہ دے وہی مجرم ٹھہرا ہے
بکنے لگے بازار میں قیمت کی پرستش
جمہور کا نعرہ تو بہت گونج رہا ہے
اندر سے مگر جاری ہے طاقت کی پرستش
وشمہ" یہ زمانہ ہے مفادوں کا اسیر اب
کم ہو گئی لوگوں میں محبت کی پرستش
تقاضے پھر بھی مسافت کے نا تمام رہے
ترے مزاج میں بھر دوں میں رنگ فطرت کا
میں چاہتا ہوں کہ تو صاحِبِ کَلام رہے
امید رکھنا غلط ہے کسی پرندے سے
سکوں کے ساتھ رہے اور زیر دام رہے
ہوئے جو دہر میں رسوا تو کچھ ملال نہیں
تری نظر میں تو میرا کوئی مقام رہے
سبب ہو کوئی مگر یہ بھی سچ ہے اے شاعر
کنارے تو رہے اور تشنہ در و بام رہے
اللہ کرے گھر میں رہے رَحمتوں کی ہَوا
اُلفـَت کے دِیے جَلتے رَہیں رات دِن یَہاں
مُحبت کا ہو چَرچا، ہو وَفاؤں کا سِلسِلہ
رِشتوں میں ہو نَرمی بھی، دِلوں میں قَرار ہو
ہَر موڑ پر تُمہارے لیے رَب کا پیار ہو
غَم کی گھَٹا اگر کَبھی آسمان پرَ آئے
صَبَر و دُعا کا سایہ تُمہیں تھامنے کو آئے
رِزَقِ حلال، عِزت و اَولاد کی بَہار
ہَر سِمَت سے نَصیب ہو خُوشیوں کا اِعتبار
اَظہرؔ کے اِس گھرانے پہ کَرم ہو یا اِلٰہ
آباد یہ چَمن رَہے تا حَشَر اَے خُدا
مَظہرؔ کی ہے بَس اِتنی دُعا صُبح و شام یہ
رَحمت بَرَس رَہی ہو تُمہارے ہَر اِک قَدَم پہ






