دعا کو ہاتھ اٹھاۓ ہیں
Poet: بنت لیاقت By: بنت لیاقت, Sargodhaدعا کو ہاتھ اٹھاۓ ہیں
اور سوچ رہی ہوں کیا مانگوں
اپنے درد کی میں دوا مانگوں
یا رب سے میں شفا مانگوں
یہ دل بے چیں رہتا ہے
سکوں کی میں ردا مانگوں
میں نیکی کی جزا مانگوں
یا معافیِ خطا مانگوں
اپنی سب رضاؤں میں
رب کی میں رضا مانگوں
کیوں زندگی یوں بے رنگ ہے
تو رنگ اک نیا مانگوں
محبت ہو گئی تھی جو
کیا اسکی میں سزا مانگوں
اس دل کا حال سنانے کو
میں کیوں نہ دلرُبا مانگوں
اور دل بھی تو بہلانا ہے
سو پرسکون فضا مانگوں
زندگی کی کشتی بچانے کو
میں اک ناخدا مانگوں
اپنے چاہنے والوں کی
میں عمر رواں مانگوں
اب ہاتھ جو اٹھاۓ ہیں
تو اور کیا کیا مانگوں
ان سوچوں ہی گم تھی
میں پھر یوں ہی خیال آیا کہ
کیوں اور کچھ بھلا مانگوں
خدا سے میں خدا مانگوں
خدا مجھے جو مل حاۓ
اور کچھ میں نہ مانگوں
کیوں کہ جو رب ہے نہ وہی سب ہے.....
More Islamic Poetry






