دل تمہاری یاد میں پہلے کبھی رویا نہیں
Poet: Azra Naz By: Azra Naz, Reading UKدل تمہاری یاد میں پہلے کبھی رویا نہیں
ریزہ ریزہ ٹوٹ کر ایسے کبھی بکھرا نہیں
زندگانی گر مکافاتِ عمل کا نام ہے
کاٹتی کیوں پھر رہی ہوں جو کبھی بویا نہیں
آ رہا ہے پیار اُس کی اِس ادا پر ٹوٹ کر
شب کا تارہ رات بھر میرے لیۓ سویا نہیں
لے گئے حالات تجھ کو دور مجھ سے چھین کر
میں نے دانستہ تو میری جاں تجھے کھویا نہیں
رفتہ رفتہ ایک دن یہ مندمل ہو جائے گا
زخم گہرا ہے مگر اتنا بھی تو گہرا نہیں
سامنے میرے رقیبوں کو لئے پھرتا ہے جو
بیوفائی سے بھی اُس کی دل میرا ٹوٹا نہیں
اور بھی تیری طرح سے ہیں شکستہ پا کئی
ایک تو ہی زندگی کی راہ میں تنہا نہیں
کس طرح جانے کٹے گا یہ کڑا لمبا سفر
دھوپ کتنی تیز ہے اور سر پہ بھی سایا نہیں
جو سدا چلتا رہا خوابوں میں میرے ساتھ ساتھ
سامنے آیا تو اک لمحے کو بھی ٹھہرا نہیں
ہو رہا ہے جو اسی پر ہم تو رکھتے ہیں نظر
آگے کیا ہونا ہے ہم نے یہ کبھی سوچا نہ نہیں
ہے بہت آساں ترے قاتل کو اب پہچاننا
اس نے اپنی آستیں سے خوں ابھی دھویا نہیں
انسان نے کی ہے فقط عادت کی پرستش
سچ بولنے والوں کو ملا دار کا تحفہ
جھوٹوں نے مگر پائی ہے عزّت کی پرستش
ایوانِ سیاست میں یہ منظر ہے عجب سا
کردار نہیں، ہوتی ہے صورت کی پرستش
محروم ہی رہتے ہیں ہمیشہ اہلِ دانش
جاہل کو ملی شہر میں شہرت کی پرستش
حق بات جو کہہ دے وہی مجرم ٹھہرا ہے
بکنے لگے بازار میں قیمت کی پرستش
جمہور کا نعرہ تو بہت گونج رہا ہے
اندر سے مگر جاری ہے طاقت کی پرستش
وشمہ" یہ زمانہ ہے مفادوں کا اسیر اب
کم ہو گئی لوگوں میں محبت کی پرستش
تقاضے پھر بھی مسافت کے نا تمام رہے
ترے مزاج میں بھر دوں میں رنگ فطرت کا
میں چاہتا ہوں کہ تو صاحِبِ کَلام رہے
امید رکھنا غلط ہے کسی پرندے سے
سکوں کے ساتھ رہے اور زیر دام رہے
ہوئے جو دہر میں رسوا تو کچھ ملال نہیں
تری نظر میں تو میرا کوئی مقام رہے
سبب ہو کوئی مگر یہ بھی سچ ہے اے شاعر
کنارے تو رہے اور تشنہ در و بام رہے
اللہ کرے گھر میں رہے رَحمتوں کی ہَوا
اُلفـَت کے دِیے جَلتے رَہیں رات دِن یَہاں
مُحبت کا ہو چَرچا، ہو وَفاؤں کا سِلسِلہ
رِشتوں میں ہو نَرمی بھی، دِلوں میں قَرار ہو
ہَر موڑ پر تُمہارے لیے رَب کا پیار ہو
غَم کی گھَٹا اگر کَبھی آسمان پرَ آئے
صَبَر و دُعا کا سایہ تُمہیں تھامنے کو آئے
رِزَقِ حلال، عِزت و اَولاد کی بَہار
ہَر سِمَت سے نَصیب ہو خُوشیوں کا اِعتبار
اَظہرؔ کے اِس گھرانے پہ کَرم ہو یا اِلٰہ
آباد یہ چَمن رَہے تا حَشَر اَے خُدا
مَظہرؔ کی ہے بَس اِتنی دُعا صُبح و شام یہ
رَحمت بَرَس رَہی ہو تُمہارے ہَر اِک قَدَم پہ







