دل بیتاب ہوتا ہے
Poet: UA By: UA, Lahoreکسی کی یاد آتی ہے تو دل بیتاب ہوتا ہے
مشکل سے سنبھلتا ہے جب بیتاب ہوتا ہے
نگاہوں میں طلاطم خیز موجیں شور کرتی ہیں
میرے دل کا سکوں اس شور سے بیتاب ہوتا ہے
میرا دم گھٹنے لگتا ہے میری سانسیں اکھڑتی ہیں
سلگتی روح کی حدت سے دل بیتاب ہوتا ہے
مجھے یوں دیکھ کر آنکھیں تمہاری بھیگ نہ جائیں
یہی تو سوچ کراپنا یہ دل بیتاب ہوتا ہے
بہت احساس ہے دل کو میری چشم پریشاں کا
نظر دیدار نہ پائے تو دل بیتاب ہوتا ہے
ہر آہٹ پر میرے دل کو گماں ہوتا ہے تم آئے
مگر جب تم کو نہ پائے تو دل بیتاب ہوتا ہے
ضروری تو نہیں ہر بزم میں چرچہ ہمارا ہو
مگر کیا کیجئیے نہ ہو تو دل بیتاب ہوتا ہے
ہمارا دل بڑا نازک ہے دیکھو ٹوٹ نہ جائے
بکھرنے کے تصور سے یہ دل بیتاب ہوتا ہے
زمانے کا چلن ہے دکھ بھی سکھ کے ساتھ ہیں لیکن
خوشی غم میں بدل جائے تو دل بیتاب ہوتا ہے
کسی دل کی صدائیں بے ثمر اور بے اثر نہ ہوں
ادھورے خواب رہ جائیں تو دل بیتاب ہوتا ہے
مقدر کا ستم خوابوں کو چکنا چور نہ کر دے
دعائیں بے اثر رہ جائیں دل بیتاب ہوتا ہے
الٰہی سب کو دکھ تکلیف سے محفوظ ہی رکھنا
تڑپتے دل کی اذیت دیکھ دل بیتاب ہوتا ہے
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
گمان ہوں یقین ہوں نہیں میں نہیں ہوں؟
زیادہ نہ پرے ہوں تیرے قریں ہوں
رگوں میں جنوں ہوں یہیں ہی کہیں ہوں
کیوں تو پھرے ہے جہانوں بنوں میں
نگاہ قلب سے دیکھ تو میں یہیں ہوں
کیوں ہے پریشاں کیوں غمگیں ہے تو
مرا تو نہیں ہوں تیرے ہم نشیں ہوں
تجھے دیکھنے کا جنوں ہے فسوں ہے
ملے تو کہیں یہ پلکیں بھی بچھیں ہوں
تیرا غم بڑا غم ہے لیکن جہاں میں
بڑے غم ہوں اور ستم ہم نہیں ہوں
پیارے پریت ہے نہیں کھیل کوئی
نہیں عجب حافظ سبھی دن حسیں ہوں
جانے والے ہمیں نا رونے کی ،
ہدایت کر کے جا ،
۔
چلے ہو آپ بہت دور ہم سے ،
معاف کرنا ہوئا ہو کوئی قسور ہم سے ،
آج تو نرم لہجا نہایت کر کے جا ،
۔
درد سے تنگ آکے ہم مرنے چلیں گے ،
سوچ لو کتنا تیرے بن ہم جلیں گے ،
ہم سے کوئی تو شکایت کر کے جا ،
۔
لفظ مطلوبہ نام نہیں لے سکتے ،
ان ٹوٹے لفظوں کو روایت کر کے جا ،
۔
ہم نے جو لکھا بیکار لکھا ، مانتے ہیں ،
ہمارا لکھا ہوئا ۔ ایم ، سیاعت کر کے جا ،
۔
بس ایک عنایت کر کے جا ،
جانے والے ہمیں نا رونے کی ،
ہدایت کر کے جا ،
ہم بے نیاز ہو گئے دنیا کی بات سے
خاموش! گفتگو کا بھرم ٹوٹ جائے گا
اے دل! مچلنا چھوڑ دے اب التفات سے
تکمیل کی خلش بھی عجب کوزہ گری ہے
اکتا گیا ہوں میں یہاں اہل ثبات سے
اپنی انا کے دائروں میں قید سرپھرے
ملتی نہیں نجات کسی واردات سے
یہ دل بھی اب سوال سے ڈرنے لگا وسیم
تھک سا گیا ہے یہ بھی سبھی ممکنات سے
جسم گَلتا مرا ہائے فراق کیا ہے
روئے کیوں ہم جدائی میں وجہ ہے کیا
ہے رنگ ڈھلتا مرا ہائے فراق کیا ہے
ہوں گم سوچو میں، گم تنہائیوں میں، میں
ہے دل کڑتا مرا ہائے فراق کیا ہے
بے چاہے بھی اسے چاہوں عجب ہوں میں
نہ جی رکتا مرا ہائے فراق کیا ہے
مٹے ہے خاکؔ طیبؔ چاہ میں اس کی
نہ دل مڑتا مرا ہائے فراق کیا ہے







