دل نے کہا آج وہ لکھ اور ایسے لکھ

Poet: Rabia Munawar By: Rabia Munawar, Lahore

دل نے کہا آج وہ لکھ اور ایسے لکھ

وہ پڑھیں تو سمجھ جائیں،
وہ محسوس کریں تو جان جائیں،

وہ سنیں تو پرکھ جائیں،
وہ تڑپیں ایسے کہ بلک جائیں،

کہ اہل اجتماع، ذرا ادھر دیکھئے،
کہتے ہیں کہ نظر نہیں آتے، صاحبان سر بلند کیجئے،

جی یہاں ہوں میں، آپ سن سکیں گے کہ خاص ہوں میں،

بیاں کرتا ہوں دل کا اپنے حال،
چاہتا ہوں جان لیں اس رب کی یہ چال،

آپ سا دکھتا ہوں میں، پر ہوں کچھ خاص،
خدارا بگڑنا مت، جانتا ہوں برابری پر ہے نکاس،

پرچہ تو یوں برابری کا ہی تھا مگر،
تم ذرا بہک گئے، اچھا چھوڑو یہ بات،

دل میرا ہے صاف، جیسے امام کے قرآن کا غلاف،
گناہوں سے ہوں پاک، نہ چھانی میں نے دنیا کی کوئی خاک،

تکلیف تو ہوتی ہے مجھے، اف نہیں کرتا کہ وہ پیارا  ہے مجھے،
دل کو لگتی ہے تمہاری یہ شکایت، کہ قابل نہیں کسی عنایت،

بولتا نہیں پر ہے منظور، کہ تمہارے لئے ہوں میں معذور،
ماتھے پہ شکن ہے نہیں، کہ اللہ سے مایوس میں نہیں،

اک دن آئے گا کہ جب وہ گھڑی آن پہنچے گی،
میری بینائی میں دکھے گا تم کو نور،

میرے قدموں سے کھلے گا باغ بہاراں،
میری سماعت میں ہونگے چہکتے پرند،

میرے بول میں ہوگی چاشنی جہاں کی،
یوں میری کامیابی میں ہو گی زندگی کی دوڑ،

مشورہ ہے مان لیجئے گا آپ بھی یہ ڈور سلجھا لیجئے گا،
ہم نے سوچا آپ کے بارے میں آج تو،

دل نے کہا آج وہ لکھ، یوں لکھ، اور ایسے لکھ

Rate it:
Views: 532
15 Jul, 2021
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL