دل کے برباد جزیروں کی خبر لے کوئی

Poet: مرید باقر انصاری By: مرید باقر انصاری, Karachi

دل کے برباد جزیروں کی خبر لے کوئی
کاش بےحال فقیروں کی خبر لے کوئی

کیوں جلا اِن کے چراغوں میں غریبوں کا لہُو
میری بستی کے امیروں کی خبر لے کوئی

خوں گری عام ہے اور حرفِ ملامت بھی نہیں
ہیں کہاں مُردہ ضمیروں کی خبر لے کوئی

کیوں ترقی نہیں کر پایا ابھی تک کوئی شہر
کاش نااہل وزیروں کی خبر لے کوئی

پھر کسی سیپ کے آنگن میں چُھپے بیٹھے ہیں
جا کے ساحل پہ وہ ہیروں کی خبر لے کوئی

جانے کس حال میں ہیں زِندہ بھی ہیں یا مر گئے
ہجر کے مارے اسیروں کی خبر لے کوئی

کِس نے پیغامِ محبت میں ملاوٹ کی ہے
عشق کے سارے سفیروں کی خبر لے کوئی

میری قسمت میں کہیں وصل لکھا ہے کہ نہیں
میرے ہاتھوں کی لکیروں کی خبر لے کوئی

آج کیوں مجھ کو ستانے نہیں آئے باقرؔ
بچے کِس کے تھے شریروں کی خبر لے کوئی

Rate it:
Views: 514
21 Mar, 2017
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL