دل کے حوالوں میں یہاں
Poet: Ishraq Jamal Ashar Chishti By: Ishraq Jamal Ashar Chishti, KARACHIجس نے رکھا ہے تمہیں دل کے حوالوں میں یہاں
زندگی اس نے گزاری ہے عذابوں میں یہاں
جانے کب آئے قضاء موت کا ساغر لے کر
غرق کرتا رہا میں خود کو شرابوں میں یہاں
مانگنے والے نے مانگا ہے محبت کا حساب
کیا مجھے پایا ادھوار ہے وفاؤں میں یہاں
اتنا ناراض نہ ہو تیری محبت کی قسم
میں سوچا ہے فقط تجھ کو خیالوں میں یہاں
سب کو جلوؤں کی تجلی کے اجالے بخشے
میری باری پہ ہی آیا تھا نقابوں میں یہاں
وہ میرا نقش مٹانے پہ بضد ہے لیکن
میں تو آؤنگا نظر اسکو خوابوں میں یہاں
گھر کا ٹوٹا ہوا دروازہ کھلا رہنے دو
کون آئیگا میرے خانہ خرابوں میں یہاں
اسکی رسوائی کے زخموں سے شناسائی ہے
اب نہیں گھر سے نکلتا وہ حجابوں میں یہاں
پڑھنے والوں کی بھی آنکھوں سے ہیں ٹپکے آنسو
کس نے لکھا میرا قصہ ہے کتابوں میں یہاں
جانے کس موڑ پہ وہ میری محبت ڈھونڈے
میں نے چھوڑا ہے اشہر خود کو سرابوں میں یہاں
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے






