دماغ و ذہن پہ چھائی یہ ظلمتیں نکلیں

Poet: مرید باقر انصاری By: مرید باقر انصاری, Karachi

دماغ و ذہن پہ چھائی یہ ظلمتیں نکلیں
کسی طرح تو مرے دل سے وحشتیں نکلیں

یوں مجھ کو وقت کے حاکم نے قتل کر ڈالا
میں چاہتا تھا کہ گاؤں سے غربتیں نکلیں

خطیبِ شہر سے جاں چھوٹے تب ہی ممکن ہے
دلوں میں نقش یہ بغض و عداوتیں نکلیں

معاشرے میں برائی کو روکنا ہے اگر
جڑیں برائی کی پہلے تو صحبتیں نکلیں

ہر ایک شہر میں ہی المیہ دکھائی دے
منافقت کو نکالیں تو غیبتیں نکلیں

وہ ایک بار جسے ہجر گھیر لیتا ہے
اسی کے حصے میں ساری مصیبتیں نکلیں

مری نمازوں میں باقرؔ خلل یہ ڈالتی ہیں
یہ میرے ذہن سے مٹی کی مورتیں نکلیں

Rate it:
Views: 782
21 Mar, 2017
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL