دن کے ماتھے پہ غم کا سورج ہے، شب کے ہونٹوں پہ ہجر طاری ہے
Poet: Sidra Subhan By: sidra subhan, Kohatدن کے ماتھے پہ غم کا سورج ہے، شب کے ہونٹوں پہ ہجر طاری ہے
گردش وقت اس کو کہتے ہیں ؟ زندگی! یہ تیری شماری ہے؟
ہم کو تھی آبلہ پائی کی طلب، تو نے آنکھوں میں بھر دیے صحرا،
اب کیوں پیروں میں دیکھ کر یہ حنا، تیرے چہرے پہ سوگواری ہے؟
حوصلوں کی دکان کھول کہ ہم، تیرے سب غم خرید لیتے تھے
تم تو خوشحال ہو گئے لیکن، میری رگ رگ میں درد کاری ہے
رات پچھلے پہر کا سناٹا، تیری باتوں کا ورد کرتا ہے
درد آنکھوں میں رقص کرتے ہیں، یاد کی ہر سبیل جاری ہے
میں نے دیکھا ہے تیرے چہرے کو، زرد موسم کا حال کہتا ہے
تیری سانسوں کو چھو کہ دیکھا ہے، بے قراری ہی بے قراری ہے
لوگ کہتے ہیں کہ صبح ہو گی، زندگی تو مگر کہاں ہو گی
وہ جو ایک صبح کا ستارا تھا، اسکے صدقے یہ جان واری ہے
جسکی مٹی میں دن کا سورج ہو، اور زلفوں میں رات کے سائے
اسی جلتی کلائی کی لو میں ، میں نے یہ غم کی شب گزاری ہے
انسان نے کی ہے فقط عادت کی پرستش
سچ بولنے والوں کو ملا دار کا تحفہ
جھوٹوں نے مگر پائی ہے عزّت کی پرستش
ایوانِ سیاست میں یہ منظر ہے عجب سا
کردار نہیں، ہوتی ہے صورت کی پرستش
محروم ہی رہتے ہیں ہمیشہ اہلِ دانش
جاہل کو ملی شہر میں شہرت کی پرستش
حق بات جو کہہ دے وہی مجرم ٹھہرا ہے
بکنے لگے بازار میں قیمت کی پرستش
جمہور کا نعرہ تو بہت گونج رہا ہے
اندر سے مگر جاری ہے طاقت کی پرستش
وشمہ" یہ زمانہ ہے مفادوں کا اسیر اب
کم ہو گئی لوگوں میں محبت کی پرستش
تقاضے پھر بھی مسافت کے نا تمام رہے
ترے مزاج میں بھر دوں میں رنگ فطرت کا
میں چاہتا ہوں کہ تو صاحِبِ کَلام رہے
امید رکھنا غلط ہے کسی پرندے سے
سکوں کے ساتھ رہے اور زیر دام رہے
ہوئے جو دہر میں رسوا تو کچھ ملال نہیں
تری نظر میں تو میرا کوئی مقام رہے
سبب ہو کوئی مگر یہ بھی سچ ہے اے شاعر
کنارے تو رہے اور تشنہ در و بام رہے
اللہ کرے گھر میں رہے رَحمتوں کی ہَوا
اُلفـَت کے دِیے جَلتے رَہیں رات دِن یَہاں
مُحبت کا ہو چَرچا، ہو وَفاؤں کا سِلسِلہ
رِشتوں میں ہو نَرمی بھی، دِلوں میں قَرار ہو
ہَر موڑ پر تُمہارے لیے رَب کا پیار ہو
غَم کی گھَٹا اگر کَبھی آسمان پرَ آئے
صَبَر و دُعا کا سایہ تُمہیں تھامنے کو آئے
رِزَقِ حلال، عِزت و اَولاد کی بَہار
ہَر سِمَت سے نَصیب ہو خُوشیوں کا اِعتبار
اَظہرؔ کے اِس گھرانے پہ کَرم ہو یا اِلٰہ
آباد یہ چَمن رَہے تا حَشَر اَے خُدا
مَظہرؔ کی ہے بَس اِتنی دُعا صُبح و شام یہ
رَحمت بَرَس رَہی ہو تُمہارے ہَر اِک قَدَم پہ






