دنیا اور آخرت
Poet: kashif imran By: kashif imran, Mianwaliدل کو اپنے
یہ کیا ہوا؟
سنبھلتا ہی نہیں
بہلتا ہی نہیں
شادمانی میں بھی
مچلتا ہی نہیں
زور سے اب یہ
دھڑکتا ہی نہیں
اداسیوں نے
محرمیوں نے
مایوسیوں نے
حسرتوں نے
لگا لئے ہیں
ڈیرے اس میں
اور اب اس میں
نہ کوئی
امید ہے باقی
نہ کوئی
حوصلہ اور ہمت
برداشت اور صبر
ہے باقی
بس
انتظار ہے
زندگی کے سفر
تمام ہونے کا
اور
گہری شام ہونے کا
کیونکہ
نہ کوئی کرن
دکھائی دیتی ہے
نہ کوئی آس
دکھائی دیتی ہے
وطن میں اپنے
کچھ ایسا دکھائی دیتا ہے
کہ
نہ کوئی ہے اپنا
محافظ اور نہ منصف کوئی
نہ قائد کوئی نہ مخلص کوئی
نہ صادق کوئی نہ امین کوئی
پھر کیسے یہ دل
سنبھلے، بہلے، مچلے
یہاں پر ہوگئی
سستی موت
مہنگی زندگی
پرواہ نہیں کسے بھی
سسکتے بلکتے تڑپتے
بھوک سے مرتے
انسانوں کی، نونہالوں کی
بس فکر لگی ہے
سب کو
اپنا آپ بنانے کی
اپنا مفاد پانے کی
دکھ اووروں کو
دے کر خوشیاں
اپنی منانے کی
مگر
بھول گئے ہیں
سب
کہ آخر اک دن
مرنا ہوگا
جو کیا ہے
وہ بھرنا ہوگا
انسان نے کی ہے فقط عادت کی پرستش
سچ بولنے والوں کو ملا دار کا تحفہ
جھوٹوں نے مگر پائی ہے عزّت کی پرستش
ایوانِ سیاست میں یہ منظر ہے عجب سا
کردار نہیں، ہوتی ہے صورت کی پرستش
محروم ہی رہتے ہیں ہمیشہ اہلِ دانش
جاہل کو ملی شہر میں شہرت کی پرستش
حق بات جو کہہ دے وہی مجرم ٹھہرا ہے
بکنے لگے بازار میں قیمت کی پرستش
جمہور کا نعرہ تو بہت گونج رہا ہے
اندر سے مگر جاری ہے طاقت کی پرستش
وشمہ" یہ زمانہ ہے مفادوں کا اسیر اب
کم ہو گئی لوگوں میں محبت کی پرستش
تقاضے پھر بھی مسافت کے نا تمام رہے
ترے مزاج میں بھر دوں میں رنگ فطرت کا
میں چاہتا ہوں کہ تو صاحِبِ کَلام رہے
امید رکھنا غلط ہے کسی پرندے سے
سکوں کے ساتھ رہے اور زیر دام رہے
ہوئے جو دہر میں رسوا تو کچھ ملال نہیں
تری نظر میں تو میرا کوئی مقام رہے
سبب ہو کوئی مگر یہ بھی سچ ہے اے شاعر
کنارے تو رہے اور تشنہ در و بام رہے
اللہ کرے گھر میں رہے رَحمتوں کی ہَوا
اُلفـَت کے دِیے جَلتے رَہیں رات دِن یَہاں
مُحبت کا ہو چَرچا، ہو وَفاؤں کا سِلسِلہ
رِشتوں میں ہو نَرمی بھی، دِلوں میں قَرار ہو
ہَر موڑ پر تُمہارے لیے رَب کا پیار ہو
غَم کی گھَٹا اگر کَبھی آسمان پرَ آئے
صَبَر و دُعا کا سایہ تُمہیں تھامنے کو آئے
رِزَقِ حلال، عِزت و اَولاد کی بَہار
ہَر سِمَت سے نَصیب ہو خُوشیوں کا اِعتبار
اَظہرؔ کے اِس گھرانے پہ کَرم ہو یا اِلٰہ
آباد یہ چَمن رَہے تا حَشَر اَے خُدا
مَظہرؔ کی ہے بَس اِتنی دُعا صُبح و شام یہ
رَحمت بَرَس رَہی ہو تُمہارے ہَر اِک قَدَم پہ






