مت زکر کیجے میری ادا کے بارے میں
میں بہت کچھ جانتا ہوں وفا کے بارے میں
(35)
یہ یقین خود کو بہر حال دینا ہو گا مسعود
ہم مسافر ہیں ہمیں یہاں سے جانا ہو گا
(36)
بے چین اِس قدر تھا سویا نہ ساری رات بھر
پلکوں سے لکھ رہا تھا تیرا نام چاند پر
(37)
اپنی حالت کا خود احساس نہیں ہے مجھ کو
اُسے کیسے معلوم ہوتا کہ ہم پریشان ہیں
(38)
وہ کہتے تھے رونے سے نہیں بدلتے نصیب
اُن کی اِس بات نے عمر بھر رونے بھی نہ دیا
(39)
دیکھی ہے اُس کی آنکھ میں پہلی بار نمی
یوں لگ رہا ہے جیسے سمندر اداس ہو
(40)
وہ رُوٹھا تو ہم بھی خاموش ہی رہے
ایک بار منا لیتے تو روز خفا نہ ہوتے
(41)
آو اِس سال محبت کی قسم کھائیں
ایک نجومی نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہے