دولت ملی نہیں ہے یہ بنیاد کھا گئی
Poet: Unknown By: Asad Bhai, Mailsiدولت ملی نہیں ہے یہ بنیاد کھا گئی
ماں باپ کی کمائی تو اولاد کھا گئی
محنت بہت کی ہل بھی چلائے بچا نہ کچھ
دولت بہت لگائی مگر کھاد کھا گئی
دیکھے جو خواب پورے ہوئے نہ وہ دوستو
اپنی بتائی سب کو تھی روداد کھا گئی
اچھا نہ بن سکا میں تو شاعر بھی اس لیے
جھوٹی ملی کبھی تھی مجھے داد کھا گئی
شہزاد کر کمال حکومت نے بھی دیا
غرباء کو جو ملی سبھی امداد کھا گئی
More Life Poetry






