ديکھو جيسے ميری آنکھيں
Poet: Amjad Islam Amjad By: TARIQ BALOCH, HUB CHOWKIيہ عمر تُمہاری ايسی ہے
جب آسمان سے تارے توڑ کے لے آنا بھی
سچ مُچ ممکن لگتا ہے
شہر کا ہر آباد علاقہ
اپنا آنگن لگتا ہے
يوں لگتا ہے جيسے ہر دن
ہر اک منظر
تم سے اجازت لے کر اپنی شکل معين کرتا ہے
جو چاہو وہ ہو جاتا ہے جو سوچو، وہ ہو سکتا ہے
ليکن اے اس کچی عمر کی بارش ميں مستانہ پھرتی چنچل لڑکی
يہ بادل جو آج تُمہاری چھت پر رک کر تم سے باتيں کرتا ہے
اک سايہ ہے
تُم سے پہلے اور تُمہارے بعد کے ہر اک موسم ميں يہ
ہر ايک چھت پر ايسے ہی اور اسی طرح سے
دھوکے بانٹتا پھرتا ہے
صبح ازل سے شام ابد تک ايک ہی کھيل اور ايک ہی منظر
ديکھنے والی آنکھوں کی ہر بار دکھايا جاتا ہے
اے سپنوں کی سيج پہ سونے جاگنے والی پياری لڑکی
تيرے خواب جئيں
ليکن اتنا دھيان ميں رکھنا جيون کی اس خواب سرا کے سارے منظر
وقت کے قيدی ہوتے ہيں جو اپنی رو ميں
اُنکو ساتھ لئيے جاتا ہے اور مہميز کيے جاتا ہے
ديکھنے والی آنکھيں پيچھے رہ جاتی ہيں
ديکھو۔۔۔۔۔جيسے۔۔۔۔۔ميری آنکھيں۔۔
سنبھال رکھنا میری وفا
ملو گے کب یہ تو بتا دوں
اے بتانے والے دو گا دعا
میری ہے تم سے اک التجا
پکار میری تم نے نہ سنی
دیتا رہا ہو بہت بار صدا
میری تم بن گئیں ہو ضد
لیکن لگتا تم کرو گی جفا
تم مل جاؤ اگر اے جاناں
کیونکہ میری اسی میں بقاء
اتنا یقیں ہو گیا ہے مجھے زیب
اس محبت کی تم دو گی سزا
سنتے بھی ہو کے سماعت سے محروم ہو
پہلے تو چلے آتے تھے کسی بہانے سے
اب تو منہ موڑ کے چلے جاتے ہو
کچھ یو ہی سہی صیح میرے مقدر کا قصور ہے
اب جو آتے بھی ہو اور بغیر ملے چلے جاتے ہو
تم سے مل کر اچھا لگتا تھا زیب
کھبی کھبی بے وفا مقدر کے بہانے یاد آجاتے ہو
عمر میں کچھ روانی تو آنے دیتا۔
مُجھے بات کرنے کا ڈھنگ نہ آیا،
زباں پر کچھ روانی تو آنے دیتا۔
وہ مستقبل کے خوب لئیے چلا گیا،
آخر کوئی بات پرانی تو آنے دیتا۔
اگر سچا ہوتا تو صرف باتیں نہ کرتا،
کبھی اپنی کوئی مہربانی تو آنے دیتا۔
یک دم مسکرا کے چلا گیا وہ شخص،
چہرے پہ کچھ حیرانی تو آنے دیتا۔
اسی انتظار میں مجھ سے دیر ہوئی،
" شمس" ،
محبت کی کوئی نشانی تو آنے دیتا۔






