ديکھو جيسے ميری آنکھيں

Poet: Amjad Islam Amjad By: TARIQ BALOCH, HUB CHOWKI

يہ عمر تُمہاری ايسی ہے
جب آسمان سے تارے توڑ کے لے آنا بھی
سچ مُچ ممکن لگتا ہے

شہر کا ہر آباد علاقہ
اپنا آنگن لگتا ہے
يوں لگتا ہے جيسے ہر دن
ہر اک منظر
تم سے اجازت لے کر اپنی شکل معين کرتا ہے
جو چاہو وہ ہو جاتا ہے جو سوچو، وہ ہو سکتا ہے
ليکن اے اس کچی عمر کی بارش ميں مستانہ پھرتی چنچل لڑکی
يہ بادل جو آج تُمہاری چھت پر رک کر تم سے باتيں کرتا ہے
اک سايہ ہے
تُم سے پہلے اور تُمہارے بعد کے ہر اک موسم ميں يہ
ہر ايک چھت پر ايسے ہی اور اسی طرح سے
دھوکے بانٹتا پھرتا ہے
صبح ازل سے شام ابد تک ايک ہی کھيل اور ايک ہی منظر
ديکھنے والی آنکھوں کی ہر بار دکھايا جاتا ہے
اے سپنوں کی سيج پہ سونے جاگنے والی پياری لڑکی

تيرے خواب جئيں
ليکن اتنا دھيان ميں رکھنا جيون کی اس خواب سرا کے سارے منظر
وقت کے قيدی ہوتے ہيں جو اپنی رو ميں
اُنکو ساتھ لئيے جاتا ہے اور مہميز کيے جاتا ہے
ديکھنے والی آنکھيں پيچھے رہ جاتی ہيں
ديکھو۔۔۔۔۔جيسے۔۔۔۔۔ميری آنکھيں۔۔

Rate it:
Views: 484
14 Nov, 2011
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL