دُعا
Poet: By: sumera ataria, GUDDUمری بےنام ہستی کا کوئی عُنوان ہو جائے
مرے مالک حضُوری کا کوئی سامان ہو جائے
یہاں پر زندگی کرنا کوئی مُشکل سی مُشکل ہے
کچھ ایسا ہو مرے رب زندگی آسان ہو جائے
مرے اعمال ہی جنت میں لے کر جائیں گے مُجھ کو
مگر اس بات پر پُختہ اگر ایمان ہو جائے
میں اپنے نفس کی تطہیر اُس لمحے میں کر ڈالوں
مرے دل میں گھڑی بھر کو جو تو مہمان ہو جائے
دلوں کے بھید سب معلوم ہیں تُجھ کو چھُپاؤں کیا
مرے بس میں مرے آقا مرا شیطان ہو جائے
میں اپنا آپ ڈھونڈھوں کس طرح خلقت کی کثرت میں
مرا چہرہ ہے بے چہرہ کوئی پہچان ہو جائے
تری مخلوق کی خدمت کا مُجھ کو حوصلہ دے دے
کہ شاید اس سے میرے درد کا درمان ہو جائے
دلوں کو فتح کرنے کی اگر بخشے مُجھے طاقت
تو یہ مُحتاج سُلطانوں کا بھی سلطان ہو جائے
خوشا،جنت مکیں کردے مرے اجداد کو یارب
مری اولاد پر بھی یہ ترا احسان ہو جائے
مرے دُکھ سُکھ کے ساتھی کو یہاں پر بھی صلہ دے دے
وہاں پر بھی یہی نسبت مری پہچان ہو جائے
مانگنے کا تو سلیقہ بھی نہیں آتا
بنا مانگے اگر دےدے تو کیسی شان ہو جائے
................ آمين ثم آمين يارب العالمين.............
انسان نے کی ہے فقط عادت کی پرستش
سچ بولنے والوں کو ملا دار کا تحفہ
جھوٹوں نے مگر پائی ہے عزّت کی پرستش
ایوانِ سیاست میں یہ منظر ہے عجب سا
کردار نہیں، ہوتی ہے صورت کی پرستش
محروم ہی رہتے ہیں ہمیشہ اہلِ دانش
جاہل کو ملی شہر میں شہرت کی پرستش
حق بات جو کہہ دے وہی مجرم ٹھہرا ہے
بکنے لگے بازار میں قیمت کی پرستش
جمہور کا نعرہ تو بہت گونج رہا ہے
اندر سے مگر جاری ہے طاقت کی پرستش
وشمہ" یہ زمانہ ہے مفادوں کا اسیر اب
کم ہو گئی لوگوں میں محبت کی پرستش
تقاضے پھر بھی مسافت کے نا تمام رہے
ترے مزاج میں بھر دوں میں رنگ فطرت کا
میں چاہتا ہوں کہ تو صاحِبِ کَلام رہے
امید رکھنا غلط ہے کسی پرندے سے
سکوں کے ساتھ رہے اور زیر دام رہے
ہوئے جو دہر میں رسوا تو کچھ ملال نہیں
تری نظر میں تو میرا کوئی مقام رہے
سبب ہو کوئی مگر یہ بھی سچ ہے اے شاعر
کنارے تو رہے اور تشنہ در و بام رہے
اللہ کرے گھر میں رہے رَحمتوں کی ہَوا
اُلفـَت کے دِیے جَلتے رَہیں رات دِن یَہاں
مُحبت کا ہو چَرچا، ہو وَفاؤں کا سِلسِلہ
رِشتوں میں ہو نَرمی بھی، دِلوں میں قَرار ہو
ہَر موڑ پر تُمہارے لیے رَب کا پیار ہو
غَم کی گھَٹا اگر کَبھی آسمان پرَ آئے
صَبَر و دُعا کا سایہ تُمہیں تھامنے کو آئے
رِزَقِ حلال، عِزت و اَولاد کی بَہار
ہَر سِمَت سے نَصیب ہو خُوشیوں کا اِعتبار
اَظہرؔ کے اِس گھرانے پہ کَرم ہو یا اِلٰہ
آباد یہ چَمن رَہے تا حَشَر اَے خُدا
مَظہرؔ کی ہے بَس اِتنی دُعا صُبح و شام یہ
رَحمت بَرَس رَہی ہو تُمہارے ہَر اِک قَدَم پہ






