دِل کا جو حال تھا پہلے وہ کہاں ہوتا ہے

Poet: Azra Naz By: Azra Naz, Reading UK

دِل کا جو حال تھا پہلے وہ کہاں ہوتا ہے
اب تو ہر گام پہ احساسِ زیاں ہوتا ہے

جب منڈیروں پہ جلا کرتے ہیں راتوں کو دئیے
چار سوُ ہی مرے خوابوں کا دُھواں ہوتا ہے

راز چھپتا ہے کہاں دِل کے نہاں خانے میں
جو بھی اندر ہو ، وہ چہرے سے عیاں ہوتا ہے

کشتیاں سب کی کنارے پہ لگا دیتا ہے
جب کبھی موج میں یہ آبِ رواں ہوتا ہے

بیکلی دِل میں مرے کوئی عجب ہوتی ہے
جب گلستاں میں بہاروں کا سماں ہوتا ہے

دِن تو کٹ جاتا ہے ہنگاموں میں جیسے تیسے
رات ڈھلتے ہی مگر درد جواں ہوتا ہے

یوں تو ہر بار سنا کرتی ہوں پیغامِ بہار
میرے چہرے پہ مگر رنگِ خزاں ہوتا ہے

کھو گیا بھیڑ میں جانے وہ کہاں پر عذرا
جس کی آنکھوں پہ ستاروں کا گماں ہوتا ہے

Rate it:
Views: 1096
28 Jan, 2013
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL