دِل کا جو حال تھا پہلے وہ کہاں ہوتا ہے
Poet: Azra Naz By: Azra Naz, Reading UKدِل کا جو حال تھا پہلے وہ کہاں ہوتا ہے
اب تو ہر گام پہ احساسِ زیاں ہوتا ہے
جب منڈیروں پہ جلا کرتے ہیں راتوں کو دئیے
چار سوُ ہی مرے خوابوں کا دُھواں ہوتا ہے
راز چھپتا ہے کہاں دِل کے نہاں خانے میں
جو بھی اندر ہو ، وہ چہرے سے عیاں ہوتا ہے
کشتیاں سب کی کنارے پہ لگا دیتا ہے
جب کبھی موج میں یہ آبِ رواں ہوتا ہے
بیکلی دِل میں مرے کوئی عجب ہوتی ہے
جب گلستاں میں بہاروں کا سماں ہوتا ہے
دِن تو کٹ جاتا ہے ہنگاموں میں جیسے تیسے
رات ڈھلتے ہی مگر درد جواں ہوتا ہے
یوں تو ہر بار سنا کرتی ہوں پیغامِ بہار
میرے چہرے پہ مگر رنگِ خزاں ہوتا ہے
کھو گیا بھیڑ میں جانے وہ کہاں پر عذرا
جس کی آنکھوں پہ ستاروں کا گماں ہوتا ہے
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






