دہر کے حادثات نے مارا

Poet: Khalid Roomi By: Khalid Roomi, Rawalpindi

خواہش التفات نے مارا
ایک سادہ سی بات نے مارا

حسن ذات و صفات نے مارا
عشق کی واردات نے مارا

زندگی پر تو قیامت ہے
دہر کے حادثات نے مارا

کیا بتاؤں میں بیکسی دل کی
ہجر کی کالی رات نے مارا

ناؤ رنگینیوں میں ڈوبی ہے
رونق شش جہات نے مارا

شوخی چشم اور لب و رخسار
حسن کی کائنات نے مارا

پھنس گئے ہم بھی اس شکنجے میں
آرزوئے نجات نے مارا

کب کوئی برچھیوں سے مرتا ہے
رنگ و خوشبو کی بات نے مارا

موت سے اس طرح نہیں مرتا
آدمی کو حیات نے مارا

لوگ دشمن کے ہاتھوں مارے گئے
ہمیں اپنوں کی گھات نے مارا

کون ہے طالب تغیریاں
آرزوئے نجات نے مارا

جی سکے گا جہاں میں کیا رومی
جسے خوف ممات نے مارا

Rate it:
Views: 741
30 Mar, 2010
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL