دیکھ کر نام تیرا، یاد آتے ہیں سبھی قول و قرار باری باری
Poet: Numan Ijaz By: Numan Ijaz, Lahoreدیکھ کر نام تیرا، یاد آتے ہیں سبھی قول و قرار باری باری
وہ جو بھول گئے خواب، یا جو بنے راہ میں دیوار باری باری
پہنچ کر گھر جب لیٹتا ہوں سونے کے لیے
آنکھوں میں بنا لیتے ہیں آنسو قطار باری باری
عشق تو ہے ہی اسکے قانون بھی نرالے ہیں
سُناتا ہے سزا ایک ساتھ، جنھیں کرتا ہے گرفتار باری باری
اُسکے ایک نظر دیکھنے سے میں اٰٹھ رہا ہوں میکدے سے
ساقیہ جام پر جام پِلا اور بڑھامہ کی مقدار باری باری
کسی ایک کے پیچھے ہٹنے سے، اُس ایک کو قرار آجائے
یہاں یہ سلسلہ مسلسل ہے، ہوتے ہیں دونوں بےقرار باری باری
نہ ڈھونڈ انھیں گلی گلی، عاشق ہیں یہ فقیر نہیں
ٹھہر جا کسی شہرا پر، پھر دیکھ جنازے سرِبازار باری باری
میں ہی نہیں مل رہا مجھے، شاید مل جاو تجھے
تُونے جو رکھے تھے نام، ان سبھی سے پُکار باری باری
تمھیں بھی بےوفائی کا شکوہ ہے مجھ سے، ذرا سوچ لو
اب تو یاد بھی نہیں نعمان، اتنے چھوڑے تیرے لیے یار باری باری
سنبھال رکھنا میری وفا
ملو گے کب یہ تو بتا دوں
اے بتانے والے دو گا دعا
میری ہے تم سے اک التجا
پکار میری تم نے نہ سنی
دیتا رہا ہو بہت بار صدا
میری تم بن گئیں ہو ضد
لیکن لگتا تم کرو گی جفا
تم مل جاؤ اگر اے جاناں
کیونکہ میری اسی میں بقاء
اتنا یقیں ہو گیا ہے مجھے زیب
اس محبت کی تم دو گی سزا
سنتے بھی ہو کے سماعت سے محروم ہو
پہلے تو چلے آتے تھے کسی بہانے سے
اب تو منہ موڑ کے چلے جاتے ہو
کچھ یو ہی سہی صیح میرے مقدر کا قصور ہے
اب جو آتے بھی ہو اور بغیر ملے چلے جاتے ہو
تم سے مل کر اچھا لگتا تھا زیب
کھبی کھبی بے وفا مقدر کے بہانے یاد آجاتے ہو
عمر میں کچھ روانی تو آنے دیتا۔
مُجھے بات کرنے کا ڈھنگ نہ آیا،
زباں پر کچھ روانی تو آنے دیتا۔
وہ مستقبل کے خوب لئیے چلا گیا،
آخر کوئی بات پرانی تو آنے دیتا۔
اگر سچا ہوتا تو صرف باتیں نہ کرتا،
کبھی اپنی کوئی مہربانی تو آنے دیتا۔
یک دم مسکرا کے چلا گیا وہ شخص،
چہرے پہ کچھ حیرانی تو آنے دیتا۔
اسی انتظار میں مجھ سے دیر ہوئی،
" شمس" ،
محبت کی کوئی نشانی تو آنے دیتا۔






