دیکھ کر نام تیرا، یاد آتے ہیں سبھی قول و قرار باری باری
Poet: Numan Ijaz By: Numan Ijaz, Lahoreدیکھ کر نام تیرا، یاد آتے ہیں سبھی قول و قرار باری باری
وہ جو بھول گئے خواب، یا جو بنے راہ میں دیوار باری باری
پہنچ کر گھر جب لیٹتا ہوں سونے کے لیے
آنکھوں میں بنا لیتے ہیں آنسو قطار باری باری
عشق تو ہے ہی اسکے قانون بھی نرالے ہیں
سُناتا ہے سزا ایک ساتھ، جنھیں کرتا ہے گرفتار باری باری
اُسکے ایک نظر دیکھنے سے میں اٰٹھ رہا ہوں میکدے سے
ساقیہ جام پر جام پِلا اور بڑھامہ کی مقدار باری باری
کسی ایک کے پیچھے ہٹنے سے، اُس ایک کو قرار آجائے
یہاں یہ سلسلہ مسلسل ہے، ہوتے ہیں دونوں بےقرار باری باری
نہ ڈھونڈ انھیں گلی گلی، عاشق ہیں یہ فقیر نہیں
ٹھہر جا کسی شہرا پر، پھر دیکھ جنازے سرِبازار باری باری
میں ہی نہیں مل رہا مجھے، شاید مل جاو تجھے
تُونے جو رکھے تھے نام، ان سبھی سے پُکار باری باری
تمھیں بھی بےوفائی کا شکوہ ہے مجھ سے، ذرا سوچ لو
اب تو یاد بھی نہیں نعمان، اتنے چھوڑے تیرے لیے یار باری باری
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے






