ذرا سی بات کو تم نے بڑھا کہ آخری نہج تک پہُنچایا ہے

Poet: H.M. Salman Amin By: H.M. Salman Amin,

ذرا سی بات کو تم نے بڑھا کہ آخری نہج تک پہُنچایا ہے
تمہارے اس حرکت نے ہمیں سب کے سامنے نادم کروایا ہے

مانتے ہیں غلطی کچھ ہماری بھی تھی شاید
پر تم نے تو اپنے ترکش کا آخری تیر بھی چلایا ہے

لگتا ہے کے تم آ گئے ہو دوسروں کی باتوں کے جال میں
ورنہ کبھی کسی نے اپنی محبت کوبھلا ایسے آزمایا ہے

پلٹ آؤ پلٹ آؤ ابھی بھی بیٹھے ہیں ہم تمہارے انتظار میں
گزر جائے وقت تو پچھتاوں کے سوا بھی کبھی کچھ ہاتھ آیا ہے

ہم جیسا چاہنے والا نہ ملے گا کوئی دوسرا تم کو اے دلرُبا
یہ ہمارا صرف دعویٰ ہی نہیں تم نے خود بھی تو آزمایا ہے

Rate it:
Views: 475
26 Mar, 2020
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL