ذو قافیتین

Poet: رشِید حسرتؔ By: رشِید حسرتؔ, کوئٹہ

 آپ نے جو کی ہے وُہ ہے شاعری بھی شاعری
دِل لگی کی دِل لگی، دِل کی لگی کی شاعری

سِیدھی سادھی زِندگی تھی لت پڑی ایسی ہمیں
مے سے ہم نے کر لیا پہلُو تہی، پِی شاعری

ہم نے اِک چھیدوں بھرا اُن کو دِیا تھا لوتھڑا
دِل اُنہوں نے کیا دِیا، گویا کہ دی تھی شاعری

ہم تو حضرت عِشق کے در کے گدا تھے، کُچھ نہ تھے
چل پڑی پِیچھے ہمارے آپ بی بی شاعری

نِیم شب دِل کے درِیچے پر ہُوئی دستک کوئی
ہم نے پُوچھا کون؟ بولی وہ کہ "جی جی" شاعری

کِس قدر دُشوار رستوں سے گُزرنا پڑ گیا
کر سکے ہرگز نہ ہم تو مُصحفیؔ سی شاعری

ہم نے اِس کو زِندگی کا قِیمتی حِصّہ دِیا
کر سکی ہے کب ہماری دست گِیری شاعری

آنکھ ہے وِیراں جزِیرہ، اور بنجر سی زمِیں
شعر کے سانچے میں رکھی ہم نے بھیگی شاعری

اِک ذخِیرہ بٹ رہا تھا وحشتوں کا شہر میں
آ گئی حسرتؔ کے حِصّے میں بھی پِیلی شاعری
 

Rate it:
Views: 307
10 Nov, 2022
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL