رات ٹہر جاتی ہے

Poet: Shaikh Khalid Zahid By: Shaikh Khalid Zahid, Karachi

رات جب کسی پہر میں ٹہر جاتی ہے
یا پھر شائر تھک جاتی ہے
چپکے سے مجھے جگا لیتی ہے
اور پہلو میں میرے بیٹھ جاتی ہے
پھر کاندھے پر سر رکھ کر
خاموش، اداسی سے کچھ کہتی جاتی ہے
محوہوکر میں بھی جیسے سنتا رہتا ہوں
اسے دیکھتا رہتا ہوں
جب اسے ٹٹولتا ہوں
کھولی آنکھوں سے دیکھتا ہوں
نمی کاندھے پر بس محسوس ہوتی ہے
سورج کی اوٹ میں چھپ کر
جانے کب وہ چلی جاتی ہے
رات کا دکھ کتنا اچھا ہوتا
ہر آنکھ سے اوجچھل رہتا ہے

Rate it:
Views: 439
27 Oct, 2016