رات گزری پھر اندھیرا چھا گیا
Poet: عماد By: عماد, Islamabadرات گزری پھر اندھیرا چھا گیا
اپنا سورج دن چڑھے گہنا گیا
ہم نہ جانے کون عالم میں رہے
وقت کاٹا جی نہ بہلایا گیا
بس یہی تھا ان کو پتھر دل پہ ناز
ظلم فرمائیں ترس کیوں آ گیا
معرکہ آرا ہوئے تھے حسن و عشق
بیچ میں دل آ گیا مارا گیا
چودھویں کے چاند والی رات میں
چاند نکلا تھا کہ بادل چھا گیا
کیا سمجھ سکتے محبت کا فریب
یوں تو سمجھے جس قدر سمجھا گیا
ہم سر راہ وفا سنتے رہے
کہہ گیا اپنی سی ہر آیا گیا
آنے والا تھا اندھیرا رات کا
شام ہوتے دور تک سایا گیا
وضع خودداری نباہی تو مگر
اے رضاؔ دانتوں پسینہ آ گیا
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






