اب ہم کو کسی سے کوئی شکوہ نہ رہے گا

Poet: وہاب By: وہاب, Lahore

اب ہم کو کسی سے کوئی شکوہ نہ رہے گا
جب تم نہ رہے کوئی ہمارا نہ رہے گا

دنیا میں رہے سلسلۂ حسن مجھے کیا
اے وقت مرا عہد تمنا نہ رہے گا

شاید کوئی حد سیل تمنا کی ہو لیکن
دھارا تو یہ کہتا ہے کنارا نہ رہے گا

بیٹھے تھے گھنی چھاؤں میں اس کی نہ خبر تھی
بڑھ جائے گی دھوپ اور یہ سایا نہ رہے گا

جب دیکھ کے خوش ہوتے تھے کیا جانتے تھے ہم
بڑھ جائے گی دھوپ اور یہ سایا نہ رہے گا

جب دیکھ کے خوش ہوتے تھے کیا جانتے تھے ہم
رہ جائیں گی آنکھیں یہ تماشا نہ رہے گا

سمجھا تھا نہ سمجھا ہے نہ سمجھے گا رضاؔ کچھ
دیوانہ تھا دیوانہ ہے دیوانہ رہے گا

Rate it:
Views: 238
03 Feb, 2025
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL