رب کے اس فرماں پرعمل کیوں نہیں کرتے!
Poet: purki By: m.hassan, karachiسنسنی خیزی اور شدت پسند قومیں
جنم لیتی بے لگام اور بد تمیز نسلیں
جو اپنی ذمہ داریوں سے نا آشنا ہو
وہ انساں کس طرح اسلام شناسا ہو
معاشرے کی تربیت فرض ہے ادیبوں اور شاعروں پر
مگر اس دور میں جدید میڈیا کا زیادہ فرض بنتا ہے
دہشتگرد صرف وہ نہیں جو بم باندھ کرخود کواڑاتا ہے
دہشتگرد وہی ہیں جو انکے دماغوں کو کنٹرول کرتا ہے
انھیں حسین سپنے دکھا کر مولڈ کرتے ہیں
اسلحہ، روپئے اور ڈالرسے بولڈ کرتے ہیں
کہیں ملتا نہیں کوئی ٹھکانوں کا سوراغ ان کو
شاید ہم ڈھونڈنا ہی نہیں چاہتے ان ظالموں کو
یہاں جتنے بھی قاتل ہیں سب نامعلوم ہوتا ہے
معلوم کرنا ہی نہ چاہے تو کسطرح معلوم ہوتا ہے
اگر حکومت مخلص ہے اپنے ہی لوگوں سے
زمین پرسکون ہوگی اس آیت پر عمل کرنے سے
رب کے اس فرماں پرعمل کیوں نہیں کرتےحکومتی احباب
جس میں تاکید ہے“ ولکم فی ا لقصاص حیات یا اولی لاالباب“
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے






