ربا یہ کیسا دیس ہے
Poet: عدیل الرحمن سائر By: Adeel Ur Rehman sair, Sargodhaدکھوں کی یہ کیسی بستی ہے
جہاں روٹی مہنگی، جان سستی ہے
یہاں بچے خواب نہیں دیکھتے ہیں
بس فاقوں میں دن گزارتے ہیں
جہاں سچ کو زنجیر پہنائی جاتی ہو
جہاں حق کی صدا دبائی جاتی ہو
جہاں میت پر جشن ہوتا ہو
جیتے جی انسان دفن ہوتا ہو
قانون یہاں جس سے ڈرتا ہو
انصاف اسی طاقتور کو ملتا ہو
صاحبِ اقتدار جو وعدے کرتے ہوں
الیکشن کے بعد سب بھول جاتے ہوں
جہاں دولت کے لئیے جان کے سودے ہوتے ہوں
جہاں سفید پوش روز مرتے جیتے ہوں
جہاں مسجد بھی سیاست کی جاگیر بن گئی
اور منبر پہ نفرت کی تقریر بن گئی
جہاں ماں دو وقت کی روٹی کو ترستی ہو
اور ایوانوں میں ضیافت چلتی ہو
جہاں بچے کتابوں کو ترس جاتے ہوں
اور وزیروں کے بچے باہر پڑھنے جاتے ہوں
جہاں وعدے صرف کاغذوں میں رہ جاتے ہوں
اور عوام ہر بار دھوکہ کھا جاتے ہوں
جہاں علم بکتا ہو لگا بازاروں میں
جہالت کو عزت ملے درباروں میں
جہاں مزدور پسینے میں نہاتا ہو
اور افسر اے سی میں سوتا ہو
جہاں ہر دل میں اک زخم چھپا ہوتا ہو
ہر چہرہ کسی غم کا پتہ دیتا ہو
ِ
ربا یہ کیسا دیس ہے جہاں ظلم دندناتا ہے
یہاں مظلوم انصاف کو صدائیں دیتا ہے
انسان نے کی ہے فقط عادت کی پرستش
سچ بولنے والوں کو ملا دار کا تحفہ
جھوٹوں نے مگر پائی ہے عزّت کی پرستش
ایوانِ سیاست میں یہ منظر ہے عجب سا
کردار نہیں، ہوتی ہے صورت کی پرستش
محروم ہی رہتے ہیں ہمیشہ اہلِ دانش
جاہل کو ملی شہر میں شہرت کی پرستش
حق بات جو کہہ دے وہی مجرم ٹھہرا ہے
بکنے لگے بازار میں قیمت کی پرستش
جمہور کا نعرہ تو بہت گونج رہا ہے
اندر سے مگر جاری ہے طاقت کی پرستش
وشمہ" یہ زمانہ ہے مفادوں کا اسیر اب
کم ہو گئی لوگوں میں محبت کی پرستش
تقاضے پھر بھی مسافت کے نا تمام رہے
ترے مزاج میں بھر دوں میں رنگ فطرت کا
میں چاہتا ہوں کہ تو صاحِبِ کَلام رہے
امید رکھنا غلط ہے کسی پرندے سے
سکوں کے ساتھ رہے اور زیر دام رہے
ہوئے جو دہر میں رسوا تو کچھ ملال نہیں
تری نظر میں تو میرا کوئی مقام رہے
سبب ہو کوئی مگر یہ بھی سچ ہے اے شاعر
کنارے تو رہے اور تشنہ در و بام رہے
اللہ کرے گھر میں رہے رَحمتوں کی ہَوا
اُلفـَت کے دِیے جَلتے رَہیں رات دِن یَہاں
مُحبت کا ہو چَرچا، ہو وَفاؤں کا سِلسِلہ
رِشتوں میں ہو نَرمی بھی، دِلوں میں قَرار ہو
ہَر موڑ پر تُمہارے لیے رَب کا پیار ہو
غَم کی گھَٹا اگر کَبھی آسمان پرَ آئے
صَبَر و دُعا کا سایہ تُمہیں تھامنے کو آئے
رِزَقِ حلال، عِزت و اَولاد کی بَہار
ہَر سِمَت سے نَصیب ہو خُوشیوں کا اِعتبار
اَظہرؔ کے اِس گھرانے پہ کَرم ہو یا اِلٰہ
آباد یہ چَمن رَہے تا حَشَر اَے خُدا
مَظہرؔ کی ہے بَس اِتنی دُعا صُبح و شام یہ
رَحمت بَرَس رَہی ہو تُمہارے ہَر اِک قَدَم پہ






