رستہ بدلتا رہا
Poet: Bilal By: Bilal Kareem, islamabadوقت ایسی روانی میں ڈھلتا رہا
میں بے خبر ایسے ہی چلتا رہا
کبھی ہنستا تھا اپنے نصیبوں پہ میں
کبھی اندر ہی اندر میں جلتا رہا
کبھی شکوے ملے کبی ٹھوکریں ملیں
چوٹیں ایسی لگی کہ سنبھلتا رہا
اس کو پانے کی خاطرسب کچھ کیا
وہی سنگ دل تھا رستہ بدلتا رہا
More Sad Poetry







