رستہ بدلتا رہا

Poet: Bilal By: Bilal Kareem, islamabad

وقت ایسی روانی میں ڈھلتا رہا
میں بے خبر ایسے ہی چلتا رہا

کبھی ہنستا تھا اپنے نصیبوں پہ میں
کبھی اندر ہی اندر میں جلتا رہا

کبھی شکوے ملے کبی ٹھوکریں ملیں
چوٹیں ایسی لگی کہ سنبھلتا رہا

اس کو پانے کی خاطرسب کچھ کیا
وہی سنگ دل تھا رستہ بدلتا رہا

Rate it:
Views: 724
01 Nov, 2008