رشتوں کی دوکان

Poet: کنول نوید By: kanwal naveed, karachi

روتے ہی رہتے ہیں صدا انسان جو ہوں تاجر
قسمت کہاں خرید پایا ہے کوئی سازوسامان سے

دوست یہاں اکثر ہی بن جاتے ہیں کیوں دشمن
کیوں نہ شوق سے چلے جائیں ہم اس جہاں سے

ہر کسی کا یہی رونا ہے کہ کچھ کمی ہے باقی
ملتا ہی کیا ہے کسی کو اس ان چاہے مکان سے

سب کچھ ہے میسر مگر سکون سے ہیں عاری
حیران ہیں بہت ہم اپنے اس دل کے آستاں سے

مٹی میں دفن ہیں تو نہیں کوئی رہی شوکت
دنیا میں جو نظر آتے تھے کسی حکمراں سے

شیطان کہاں کر سکتا ہےایسا برباد کسی کو
ڈریں نہ کیوں ہم پھر انسان ہو کر انسان سے

پہلے کہا کرتے تھے جسے گھر اب نہیں ہے
تنگ آگئے ہم کنول اس رشتوں کی دوکان سے

Rate it:
Views: 658
11 Aug, 2013
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL