والدین کا احترام

Poet: wasif uz zaman katib By: wasif uz zaman, bhimber AJ&K

بولنا سکھایا تجھے جس نے تمیز سکھا رہا ہے اسے
مہذب بنایا تجھے جس نے جاہل پکار رہا ہے اسے

بڑھاپا خریدا تیری جوانی کے عوض جس نے
بوڑھے کا لقب دے دیا آج تو نے اسے

تیرے اک سوال کا دیتے تھے ہزار بار جواب
دوبارہ پوچھنے پے خاموش کروا رہا ہے اسے

ہر خواہش کی تیری پوری اپنا پیٹ کاٹ کر
اسپتال لے جانے سے انکار کر رہا ہے اسے

خوشی سے جھوم اُٹھتے ہیں تیرا نام سن
محفل میں ان کا نام لینا بھی گوارہ نہیں تجھے

بلامعاوضہ عمر بھر وکالت کی تیرے ماں باپ نے
آج خود سے بات کرنے سے بھی منع کر رہا ہے اسے

جن کے سر سے سایہ اٹھ گیا ہے ان کا نا پوچھو کاتب
رب کی رضا،جنت کی ہوا ہوتی ہے کیا نہیں معلوم اسے

Rate it:
Views: 837
16 Jan, 2018
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL