رنج اٹھانے پہ دل تو دکھتا ہے

Poet: UA By: UA, Lahore

دل دکھانے پہ دل تو دکھتا ہے
چوٹ کھانے پہ دل تو دکھتا ہے

جسے دکھ ملتا ہے وہ کہتا ہے
رنج اٹھانے پہ دل تو دکھتا ہے

ملنے والے اگر بچھڑنے لگیں
دور جانے پہ دل تو دکھتا ہے

یار جب یار کو پرکھتا ہے
آزمانے پہ دل تو دکھتا ہے

آنسوؤں کا سبب نہیں پوچھو
یوں ستانے پہ دل تو دکھتا ہے

ہم نے دنیا سے دل لگایا ہے
دل لگانے پہ دل تو دکھتا ہے

روتے روتے جہان میں آئے
اور جانے پہ دل تو دکھتا ہے

آخر اس جہان خانہ سے
ایسے جانے پہ دل تو دکھتا ہے

دل سے دل کا حسین سا رشتہ
توڑ جانے پہ دل تو دکھتا ہے

حوصلہ گرچہ جوڑ دیتا ہے
ٹوٹ جانے پہ دل تو دکھتا ہے

عظمٰی اب تک جو نامکمل ہے
اس فسانے پہ دل تو دکھتا ہے

Rate it:
Views: 814
07 Oct, 2009
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL