رنگ اور نُور کی برات کِسے پیش کروں

Poet: Sahir Ludhyanvi By: Najeeb Ur Rehman, Lahore

رنگ اور نُور کی برات کِسے پیش کروں
یہ مُرادوں کی حسیں رات کِسے پیش کروں

مَیں نے جذبات نبھائے ہیں اصولوں کی جگہ
اپنے ارمان پرو لایا ہوں پھولوں کی جگہ

تیرے سہرے کی یہ سوغات کِسے پیش کروں
یہ مُرادوں کی حسیں رات کِسے پیش کروں

یہ میرے شعر، میرے آخری نذرانے ہیں
مَیں اُن اپنوں میں ہوں جو آج بیگانے ہیں

بے تعلق سی ملاقات کِسے پیش کروں
یہ مُرادوں کی حسیں رات کِسے پیش کروں

سُرخ جوڑے کی تب وتاب مبارک ہو تُجھے
تیری آنکھوں کا نیا خواب مبارک ہو تُجھے

مَیں یہ خواہش یہ خیالات کِسے پیش کروں
یہ مُرادوں کی حسیں رات کِسے پیش کروں

کون کہتا ہے کہ چاہت پہ سبھی کا حق ہے
تُو جسے چاہے تیرا پیار اُسی کا حق ہے

مُجھ سے کہہ دے مَیں تیرا ہاتھ کِسے پیش کروں
یہ مُرادوں کی حسیں رات کِسے پیش کروں

رنگ اور نُور کی برات کِسے پیش کروں
یہ مُرادوں کی حسیں رات کِسے پیش کروں

Rate it:
Views: 1852
05 Jul, 2009
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL