رنگ اور نُور کی برات کِسے پیش کروں
Poet: Sahir Ludhyanvi By: Najeeb Ur Rehman, Lahoreرنگ اور نُور کی برات کِسے پیش کروں
یہ مُرادوں کی حسیں رات کِسے پیش کروں
مَیں نے جذبات نبھائے ہیں اصولوں کی جگہ
اپنے ارمان پرو لایا ہوں پھولوں کی جگہ
تیرے سہرے کی یہ سوغات کِسے پیش کروں
یہ مُرادوں کی حسیں رات کِسے پیش کروں
یہ میرے شعر، میرے آخری نذرانے ہیں
مَیں اُن اپنوں میں ہوں جو آج بیگانے ہیں
بے تعلق سی ملاقات کِسے پیش کروں
یہ مُرادوں کی حسیں رات کِسے پیش کروں
سُرخ جوڑے کی تب وتاب مبارک ہو تُجھے
تیری آنکھوں کا نیا خواب مبارک ہو تُجھے
مَیں یہ خواہش یہ خیالات کِسے پیش کروں
یہ مُرادوں کی حسیں رات کِسے پیش کروں
کون کہتا ہے کہ چاہت پہ سبھی کا حق ہے
تُو جسے چاہے تیرا پیار اُسی کا حق ہے
مُجھ سے کہہ دے مَیں تیرا ہاتھ کِسے پیش کروں
یہ مُرادوں کی حسیں رات کِسے پیش کروں
رنگ اور نُور کی برات کِسے پیش کروں
یہ مُرادوں کی حسیں رات کِسے پیش کروں
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے







