رنگِ حجاب سے رنگیں وفا كے افسانے
Poet: Dr. Masood Mehmood Khan By: Dr. Masood Mehmood Khan, Perth, Australiaجرمنی حجاب كرنے كی وجہ سے مروہ الشربینی كی شہادت اور فرانس میں حجاب پر قانونی پابندی كے تناظر میں لكھی گئی ایك نظم
مئے حجاب سے روشن حیا كے پیمانے
رنگِ حجاب سے رنگیں وفا كے افسانے
یہ اختیارِ تجلّیءِ خود كا سودا ہے
سما سكیں گے نہ اِسكو خرد كے ویرانے
مئے وفا و اطاعت نہیں اِنھیں زیبا
كج وشكستہ ہیں جلوہ گری كے پیمانے
جہانِ جبر میں ایك شجرِ بےثمر ٹہرا
دیارِ حرص میں ایك صدمہٴِ نظر ٹہرا
كبھی نشانِ اطاعت كبھی دلیلِ حیا
كبھی حجاب تیرا نغمہءِ سحر ٹہرا
جہاں حجاب نشانِ سكوت كہلایا
وہیں حجاب ہی نقّارہءِ سفر ٹہرا
امینِ نقشِ رُخِ گل حجاب تیرا ہے
دلیلِ عظمتِ اِنساں حجاب تیرا ہے
پناہِ گوہرِ نایاب سیپ كی مانند
محافظِ رخِ نسواں حجاب تیرا ہے
رہینِ منتِ شب ہےجمالِ ماہِ مُبِیں
جمالِ عِفّتِ نِسواں حجاب تیرا ہے
تیرا حجاب دلیلِ اطاعتِ حق ہے
حجاب تیرا نشانِ اشاعتِ حق ہے
حجاب عِصمتِ حوّا بھی فخرِ آدم بھی
حجابِ ایك مقدس عبادتِ حق ہے
رہے گا تابہ ابد محترم بھی دائم بھی
تیرا حجاب حدیثِ شہادتِ حق ہے
انسان نے کی ہے فقط عادت کی پرستش
سچ بولنے والوں کو ملا دار کا تحفہ
جھوٹوں نے مگر پائی ہے عزّت کی پرستش
ایوانِ سیاست میں یہ منظر ہے عجب سا
کردار نہیں، ہوتی ہے صورت کی پرستش
محروم ہی رہتے ہیں ہمیشہ اہلِ دانش
جاہل کو ملی شہر میں شہرت کی پرستش
حق بات جو کہہ دے وہی مجرم ٹھہرا ہے
بکنے لگے بازار میں قیمت کی پرستش
جمہور کا نعرہ تو بہت گونج رہا ہے
اندر سے مگر جاری ہے طاقت کی پرستش
وشمہ" یہ زمانہ ہے مفادوں کا اسیر اب
کم ہو گئی لوگوں میں محبت کی پرستش
تقاضے پھر بھی مسافت کے نا تمام رہے
ترے مزاج میں بھر دوں میں رنگ فطرت کا
میں چاہتا ہوں کہ تو صاحِبِ کَلام رہے
امید رکھنا غلط ہے کسی پرندے سے
سکوں کے ساتھ رہے اور زیر دام رہے
ہوئے جو دہر میں رسوا تو کچھ ملال نہیں
تری نظر میں تو میرا کوئی مقام رہے
سبب ہو کوئی مگر یہ بھی سچ ہے اے شاعر
کنارے تو رہے اور تشنہ در و بام رہے
اللہ کرے گھر میں رہے رَحمتوں کی ہَوا
اُلفـَت کے دِیے جَلتے رَہیں رات دِن یَہاں
مُحبت کا ہو چَرچا، ہو وَفاؤں کا سِلسِلہ
رِشتوں میں ہو نَرمی بھی، دِلوں میں قَرار ہو
ہَر موڑ پر تُمہارے لیے رَب کا پیار ہو
غَم کی گھَٹا اگر کَبھی آسمان پرَ آئے
صَبَر و دُعا کا سایہ تُمہیں تھامنے کو آئے
رِزَقِ حلال، عِزت و اَولاد کی بَہار
ہَر سِمَت سے نَصیب ہو خُوشیوں کا اِعتبار
اَظہرؔ کے اِس گھرانے پہ کَرم ہو یا اِلٰہ
آباد یہ چَمن رَہے تا حَشَر اَے خُدا
مَظہرؔ کی ہے بَس اِتنی دُعا صُبح و شام یہ
رَحمت بَرَس رَہی ہو تُمہارے ہَر اِک قَدَم پہ






