روتی ہے آج ساری خدائی شمائلہ
Poet: Dr. Masood Mehmood Khan By: Dr. Masood Mehmood Khan, Perth, Australiaتصویرِ بے بسی وہ دكھا ئی شما ئلہ
روتی ہے آج سا ری خدائی شما ئلہ
جو تیری داستانِ الم رقم كر سکے
لاٴوں كہاں سے ایسی سیا ہی شما ئلہ
تیری مدد كو لشکر كوئی نہ آسکے گا
دیوارِ مصلحت كے سائے عَلَم ہیں سارے
یو نہی ر ہے گا سونا تیر ا مز ا ر شاید
كوچے میں عافیت كے شاید قَدم ہیں سارے
تلوار ركھ چکے كہیں سونے كی نیام میں
بزدل نہیں ہیں تیرے بھا ئی شما ئلہ
شمشیرِ ظلم د یکھ كے مرعوب ہو گئے
كمزور د ل نہیں یہ سپا ہی شما ئلہ
تکریمِ تیغِ قا تِل جھک جھک كے کر رہے ہیں
تسبیحِ تیغِ قا تِل ہر دم جو پڑ ھ رہے ہیں
جلاد كے قہرِ سے با طل سے ڈر رہے ہیں
كیا خاک جی رہے ہیں ہر ر و ز مر رہے ہیں
انصاف كون دیگا اِس شہرِ خو نچکاں میں
قاتل كے زیرِ احساں آ ئے حَکم ہیں سارے
گر دل قلَم كروں تو نو حہ میں تیرا لكھوں
زنجیرِ سیم و زر میں لپٹے قلَم ہیں سا ر ے
ہر سمت دیکھ با زو ہمت كے اُٹھ رہے ہیں
اہلِ جنوں كے لشکر طوفان بن ر ہے ہیں
قاتل تیرے انہی كے جذ بوں سے ڈر رہے ہیں
چالوں سے اپنی خود كو گھائِل ہی كر رہے ہیں
تُربت شما ئلہ كی سنتی تو تُو بھی ہو گی
نعرے جو لگ رہے ہیں "اب انقلاب آیا"
تُربت شما ئلہ كی تجھ كو یقیں تو ہوگا
قاتل پہ تیرے آ یا " بس اب عذ ا ب آ یا "
انسان نے کی ہے فقط عادت کی پرستش
سچ بولنے والوں کو ملا دار کا تحفہ
جھوٹوں نے مگر پائی ہے عزّت کی پرستش
ایوانِ سیاست میں یہ منظر ہے عجب سا
کردار نہیں، ہوتی ہے صورت کی پرستش
محروم ہی رہتے ہیں ہمیشہ اہلِ دانش
جاہل کو ملی شہر میں شہرت کی پرستش
حق بات جو کہہ دے وہی مجرم ٹھہرا ہے
بکنے لگے بازار میں قیمت کی پرستش
جمہور کا نعرہ تو بہت گونج رہا ہے
اندر سے مگر جاری ہے طاقت کی پرستش
وشمہ" یہ زمانہ ہے مفادوں کا اسیر اب
کم ہو گئی لوگوں میں محبت کی پرستش
تقاضے پھر بھی مسافت کے نا تمام رہے
ترے مزاج میں بھر دوں میں رنگ فطرت کا
میں چاہتا ہوں کہ تو صاحِبِ کَلام رہے
امید رکھنا غلط ہے کسی پرندے سے
سکوں کے ساتھ رہے اور زیر دام رہے
ہوئے جو دہر میں رسوا تو کچھ ملال نہیں
تری نظر میں تو میرا کوئی مقام رہے
سبب ہو کوئی مگر یہ بھی سچ ہے اے شاعر
کنارے تو رہے اور تشنہ در و بام رہے
اللہ کرے گھر میں رہے رَحمتوں کی ہَوا
اُلفـَت کے دِیے جَلتے رَہیں رات دِن یَہاں
مُحبت کا ہو چَرچا، ہو وَفاؤں کا سِلسِلہ
رِشتوں میں ہو نَرمی بھی، دِلوں میں قَرار ہو
ہَر موڑ پر تُمہارے لیے رَب کا پیار ہو
غَم کی گھَٹا اگر کَبھی آسمان پرَ آئے
صَبَر و دُعا کا سایہ تُمہیں تھامنے کو آئے
رِزَقِ حلال، عِزت و اَولاد کی بَہار
ہَر سِمَت سے نَصیب ہو خُوشیوں کا اِعتبار
اَظہرؔ کے اِس گھرانے پہ کَرم ہو یا اِلٰہ
آباد یہ چَمن رَہے تا حَشَر اَے خُدا
مَظہرؔ کی ہے بَس اِتنی دُعا صُبح و شام یہ
رَحمت بَرَس رَہی ہو تُمہارے ہَر اِک قَدَم پہ






