روشنی-دوبارہ
Poet: محمد ثاقب By: محمد ثاقب, سرگودہاہائے یہ بے روزگاری
ہو گئی ہے زندگی سے بیزاری
بنتی نہیں ذرا بھی ہماری تمہاری
کر نہیں سکتاکوئی خواہش پوری
ہاتھ میں ہاتھ لئیےبھیٹے ہو روزگار کی تلاش میں
چاہتے ہو گزارنا زندگی عیش میں
کہتے ہو ہوتا امیر، اے کا ش میں
پاتے ہو سزا اپنی خواہشوں کی پاداش میں
مانا کے غلطی میری ہے ساری
نابناتا میں خواہشوں کی کیاری
نابنتامیں دولت کا پُجاری
ناکھاتا میں مرغ مسلم اور پان سپاری
ہوئے ہو گرفتار اب تم احساس ندامت میں
ہو اب بھی تم خاصے اچھے وقت میں
گزارو اپنا سارا وقت اس کی منت میں
رہو ہمہ وقت حا صل کرنے، سخی کی سخاوت میں
میں نا سمجھاآپ کی بات ساری
ذرا سمجھنا مجھ کوزبان میں ہماری
کیسے آپ نے اپنی زندگی سنواری
کراو گامیں آپ کو موٹر کی سواری
گزارو اپنا وقت شُکر ادا کرنے میں
لو نام اللہ کا ہر سانس کے چلنے میں
کرو عبادت اسکی دن رات کے ڈھلنے میں
رہو امید میں اسکی رحمت ملنے میں
لو مزے دورود شریف کے پڑھنے میں
روز محشر سفارش محمد۴ حاصل کروجہنم سے بچنے میں
بسالو قرآن و حدیث اپنے سینے میں
لو کام دُعا و تدبیر سے صراط مستقیم پر چلنے میں
میں نہیں چاہتا سواری موٹر تمہاری میں
سویا ہوسینے کی تاریک کوٹھری تمہاری میں
ہو جاواپنےسےصادق، ناگزارو زندگی بےضمیری میں
شیطان کو رہنے دو اسکی شیطانی میں
انسان نے کی ہے فقط عادت کی پرستش
سچ بولنے والوں کو ملا دار کا تحفہ
جھوٹوں نے مگر پائی ہے عزّت کی پرستش
ایوانِ سیاست میں یہ منظر ہے عجب سا
کردار نہیں، ہوتی ہے صورت کی پرستش
محروم ہی رہتے ہیں ہمیشہ اہلِ دانش
جاہل کو ملی شہر میں شہرت کی پرستش
حق بات جو کہہ دے وہی مجرم ٹھہرا ہے
بکنے لگے بازار میں قیمت کی پرستش
جمہور کا نعرہ تو بہت گونج رہا ہے
اندر سے مگر جاری ہے طاقت کی پرستش
وشمہ" یہ زمانہ ہے مفادوں کا اسیر اب
کم ہو گئی لوگوں میں محبت کی پرستش
تقاضے پھر بھی مسافت کے نا تمام رہے
ترے مزاج میں بھر دوں میں رنگ فطرت کا
میں چاہتا ہوں کہ تو صاحِبِ کَلام رہے
امید رکھنا غلط ہے کسی پرندے سے
سکوں کے ساتھ رہے اور زیر دام رہے
ہوئے جو دہر میں رسوا تو کچھ ملال نہیں
تری نظر میں تو میرا کوئی مقام رہے
سبب ہو کوئی مگر یہ بھی سچ ہے اے شاعر
کنارے تو رہے اور تشنہ در و بام رہے
اللہ کرے گھر میں رہے رَحمتوں کی ہَوا
اُلفـَت کے دِیے جَلتے رَہیں رات دِن یَہاں
مُحبت کا ہو چَرچا، ہو وَفاؤں کا سِلسِلہ
رِشتوں میں ہو نَرمی بھی، دِلوں میں قَرار ہو
ہَر موڑ پر تُمہارے لیے رَب کا پیار ہو
غَم کی گھَٹا اگر کَبھی آسمان پرَ آئے
صَبَر و دُعا کا سایہ تُمہیں تھامنے کو آئے
رِزَقِ حلال، عِزت و اَولاد کی بَہار
ہَر سِمَت سے نَصیب ہو خُوشیوں کا اِعتبار
اَظہرؔ کے اِس گھرانے پہ کَرم ہو یا اِلٰہ
آباد یہ چَمن رَہے تا حَشَر اَے خُدا
مَظہرؔ کی ہے بَس اِتنی دُعا صُبح و شام یہ
رَحمت بَرَس رَہی ہو تُمہارے ہَر اِک قَدَم پہ






