رٹ سے آزاد
Poet: HASANPURKI By: M.HASSAN, KARACHI گھر میں باپ کی رٹ نہیں
ملک میں حکومت کی رٹ نہیں
اسکول اور کالج میں پرنسپل کی رٹ نہیں
گالی محلوں میں بلدیہ کی رٹ نہیں
محلے کی مسجد میں مولوی کی رٹ نہیں
خود مولوی کے گھر میں مولوی کی رٹ نہٰں
مہینگے فروشوں پر انسپکٹر کی رٹ نہیں
خود انسپکٹر کے گھر میں انسپکٹر کی رٹ نہیں
تھانے والوں پر تھانہ دار کی رٹ نہیں
سیاستدانوں پر خود اپنی رٹ نہیں
رٹ ہے بس صرف ان بدمعاشوں کا
جومل کے نوچتے ہیں کھال عوام کا
باہرسے سب الگ الگ اندر سب ہیں ایک
کاش ہوجاتے اس ملک کے عوام بھی ایک
عمران اس ملک کے لئے بس آخری امید
تم چاہے کتنے زور لگاو لیپ ٹاپ بانٹ کر
مظلوم عوام نے کردیا ہے فیصلہ دل ہی دل میں
اب اور کوئی بھی نہ آسکے گا ان کے دل میں
تم نے بہت بے وقوف بنایا اس عوام کو
جو روز بروز ترس رہے ہیں روزگا ر کو
اب یہ سوکھی روٹی کھانے کے بھی قابل نہیں رہا
پانی بھی چھین لی ہے سالن بھی چھین لی
تم نے بری طرح الجھا دیا ہے ان کو ذاتوں میں
تقسیم در تقسیم کردیا انکہ ٹکڑوں میں
اب یہ تمہاری چال میں آئیں گے نہ کبھی
کتنے ہی جال تم کیوں نہ بچھاو ان کے لئے
بہت آزما چکے ہیں تمہارے کردار کو ہم
اب کسی صورت تمہاے جھانے میں نہ آییں گےہم
اب ہم بھی نواز زرداری کی رٹ سے آزاد ہوچکے
ہاشمی اور قریشی کی طرح تحرک انصاف میں جاچکے
امید بر آئیں گی مگر افسوس ایسا ہو نہ سکا
ہے نیا جذبہ ہے نیا ولولہ ان کے اندر عجیب طرح
گول ہوتے نہیں ان کھلاڑیوں سے نمائندوں کی طرح
رفتہ رفتہ یہ کھلاڑی ڈھل چکے ہیں زوال کی جانب
نظر نہیں آتی ان کو بھی گول کی کوئی صورت
ہے انجام سے غافل ہر طرح کے چیمپین بھی
انکل سیم کے حواری بھی ہیں بدمست ہاتھی
یہ خُون کے دَھبّے کبھی چہروں سے نہ دھُلیں گے
ہَر شہر میں پھَیلی ہوئی خاموش فَضا کو
آوازِ حَق آئیں گی تو پَتھر بھی ہِلیں گے
یہ وَقت کی عادَت ہے کہ فِرعَون بہت ہیں
مُوسیٰ بھی مگر بَطنِ زَمانہ سے نِکلیں گے
مَعصُوم لَہو مانگ رہا ہے یہ گواہی
تاریخ کے اَوراق میں یہ دن بھی لکھیں گے
زَنجیر کی جھَنکار سے ڈَرنے کی نہ کَہیو
یہ لوگ ہیں، اِک روز یہی زَنجیر بَدلیں گے
جو لوگ سَمجھتے ہیں کہ سَب خَوف میں ہیں قَید
وہ دیکھ لیں، حالات کے دھارے بھی بَدلیں گے
مظہرؔ یہ اَندھیروں کا تَسَلَط ہے فَقط آج
سُورَج ہیں اگر زِندہ تو کل پھر سے نِکلیں گے
ہم تو ووٹ مانگیں تو وعدے ہی سناتے ہیں
شہر کے نگہبانوں کی نیتیں نرالی ہیں
چوریاں بھی کرتے ہیں، شور بھی مچاتے ہیں
عدل کے ایوانوں میں کھیل عجب چلتا ہے
فیصلے وہی ہوتے جو جی کو بھاتے ہیں
اہلِ اقتدار آخر کتنے سادہ ہوتے ہیں
اپنی ہی خطاؤں کو دوسروں پہ ڈھاتے ہیں
درسِ صداقتیں سب دیتے ہیں بڑی شان سے
خود مگر ضرورت پر رنگ ہی بدلاتے ہیں
اہلِ علم بیٹھے ہیں بحث کے مناظرے میں
سچ کی بات آئے تو رخ ہی بدل جاتے ہیں
وشمہ اس زمانے کا حال کیا سنائیں ہم
لوگ سچ کی قیمت پر جھوٹ ہی کماتے ہیں
مصلحت کے قلم سے لکھتے ہیں
بندگی کی سند جبیں پر لوگ
خاکِ دیر و حرم سے لکھتے ہیں
وہی اگلے جنم میں لکھّیں گے
جو وہ پچھلے جنم سے لکھتے ہیں
اپنی رودادِ جادہ پیمائی
ہم تو نقشِ قدم سے لکھتے ہیں
آجکل لوگ داستانِ حیات
خامۂ رنج و غم سے لکھتے ہیں
حال دل ہم جو لکھتے ہیں شاعرؔ
فکر و فن کے قلم سے لکھتے ہیں
کون ہے جو ایسے رستے پر جینے کا اقرار کرے
جو بھی سمجھ لے وقت کی سازش لوگوں کو ہشیار کرے
روزن روزن آنکھیں رکھ دے بات پسِ دیوار کرے
قطرہ قطرہ رات گھلی ہے نیند سے ترسی آنکھوں میں
کوئی اٹھے اور گلیوں گلیوں خوابوں کا بیو پار کرے
زندہ ہو تو احساسِ غزل سے جان چھڑانی مشکل ہے
جیسے کوئی ضدی بچہ سونے سے انکار کرے
کچھ نعرے کچھ درسِ بغاوت شہروں کی دیواروں پر
سناّٹا تحریک چلائے ہنگامہ بازار کرے
شاعرِ بغاوت کے گیتوں کی جو آواز ابھرتی ہے
لفظوں میں شعلوں کی لپک ہے لحظہ بھی جھنکار کرے
کوئی صلہ تو سرِ اختیار دینا تھا
اسے بھی زخم کوئی مستعار دینا تھا
اسے کسی نے تو کافر قرار دینا تھا
وہ برگزیدہ شجر لڑ رہا تھا موسم سے
کہ پھولنا تھا اسے برگ و بار دینا تھا
یہ وہ زمین تھی جو آسماں سے اتری تھی
یہ وہ حوالہ تھا جو بار بار دینا تھا
چھپا کے سب سے ہی اپنا نام اور نشاں
سرِ صلیب کوئی اشتہار دینا تھا






