رہنے دو

Poet: Ibn.e.Raza By: Ibn.e.Raza, Islamabad

گُل کو ڈالی پہ ہی رہنے دو تو اچھا ہے
چمن میں تازگی رہنے دو تو اچھا ہے

گُلشن کو ضرورت ہے وفا کے پھولوں کی
خزاں کو دور ابھی رہنے دو تو اچھا ہے

پھر نجانے کب بہاروں کا بسیرا ہو
ابھی ہر شاخ ہری رہنے دو تو اچھا ہے

آنکھوں نے کبھی ساون کی راہ نہیں دیکھی
ہونٹوں پہ ہنسی رہنے دو تو اچھا ہے

بیتے ہوئے قصے پھر کبھی دُھرا لینا
کچھ باتیں ان سُنی رہنے دو تو اچھا ہے

اتنی تو عنایت کے رضا حقدار ہیں ہم
زرا سی زندگی رہنے دو تو اچھا ہے

گریزاں ہو گئے ہیں سبھی لوگ تم سے
اگر یہ شاعری رہنے دو تو اچھا ہے

Rate it:
Views: 460
11 Oct, 2010
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL